امریکہ ایران معاہدے میں بڑی پیش رفت، ٹرمپ کا 'زیادہ تر معاملات طے پا جانے' کا بیان: اب تک کیا تفصیلات سامنے آئی ہیں؟

16:1024/05/2026, الأحد
جنرل24/05/2026, الأحد
ویب ڈیسک
پاکستان کے آْرمی چیف نے ایران کا ایک اہم دورہ کیا جس کے بعد یہ بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔
پاکستان کے آْرمی چیف نے ایران کا ایک اہم دورہ کیا جس کے بعد یہ بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک امن معاہدے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر 'زیادہ تر مذاکرات مکمل' ہو چکے ہیں جس سے یہ توقعات بڑھ گئی ہیں کہ تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی حتمی تفصیلات اور باقی نکات پر بات چیت جاری ہے اور جلد اعلان کیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی میں توسیع، ایرانی جہاز رانی پر امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کا فریم ورک شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق معاملات پر آئندہ 30 سے 60 دن کے دوران مزید مذاکرات ہوں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اتوار تک مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے تاہم یہ ابھی حتمی نہیں۔ روبیو نے یہ عندیہ بھی دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج مزید کوئی اعلان کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایک سینئر ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اگر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اس مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی تو اسے حتمی توثیق کے لیے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس بھیجا جائے گا۔

تاہم ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بعض اہم شقوں پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

ادھر اسرائیلی سیاست دان بینی گینٹز نے لبنان میں جنگ بندی کو ایران معاہدے کا حصہ بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے لیے ایسا کرنا اسٹریٹجک غلطی ہوگی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ اسرائیل کو لبنان سمیت ہر خطرے کے خلاف کارروائی کی آزادی حاصل رہنی چاہیے جس پر ٹرمپ نے اتفاق کیا۔

مجوزہ معاہدے کی تفصیلات

امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے مفاہمی یادداشت کی کچھ تفصیلات اپنے ذرائع کے حوالے سے شائع کی ہیں جن کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایرانی تیل پر بعض پابندیوں میں نرمی کرے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے تیار ہے‘ کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں۔‘

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ’آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت سے قبل بھی ہم نے اعلان کیا تھا اور آج دوبارہ اسے دہرانے جا رہے ہیں کہ ہم دنیا کو یہ یقین دلانے کے لیے تیار ہیں کہ ہم جوہری ہتھیار نہیں چاہتے۔‘

ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ یورینیم افزودگی اس کا حق ہے۔ تاہم مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کی افزودگی کی سطح بجلی پیدا کرنے کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔

تاہم ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے میں ایران کی جوہری پروگرام سے متعلق کوئی یقین دہانی شامل نہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے معاہدے کے مسودہ میں اپنے کسی بھی جوہری مواد کی حوالگی سے متعلق کوئی وعدہ نہیں کیا جب کہ خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ مغربی میڈیا اس کے برعکس خبریں دے رہا ہے۔

تسنیم کے مطابق موجودہ مسودہ صرف جنگ کے خاتمے کے معاملے تک محدود ہے اور اس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق مجوزہ ڈرافٹ میں یہ شق بھی شامل ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران یا اس کے اتحادیوں پر حملہ نہیں کریں گے جبکہ ایران بھی پیشگی حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے گا۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ فریم ورک تین مراحل پر مشتمل ہوگا:

1۔ جنگ کا باضابطہ خاتمہ

2۔ آبنائے ہرمز بحران کا حل

3۔ وسیع تر معاہدے کے لیے 30 روزہ مذاکراتی عمل، جس میں توسیع بھی ممکن ہوگی۔

پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی ختم ہوتے ہی آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی۔ مارکو روبیو نے بھی کہا کہ اگر معاہدے کا خاکہ منظور ہو گیا تو آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی اور کسی قسم کا ٹول ٹیکس نہیں ہوگا۔

تسنیم کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت سے متعلق کسی بھی تبدیلی کا انحصار امریکہ کی جانب سے دیگر وعدوں پر عملدرآمد سے مشروط ہوگا۔ ایران یہ بھی چاہتا ہے کہ پابندیوں کے باعث منجمد کیے گئے اس کے بعض فنڈز پہلے مرحلے میں بحال کیے جائیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس ہفتے اختلافات میں کمی آئی ہے، تاہم اب بھی کئی معاملات ایسے ہیں جن پر ثالثوں کے ذریعے مزید بات چیت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے سب سے اہم مسئلہ امریکی حملوں کے خطرے کا خاتمہ اور لبنان میں تنازع کا حل ہے۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے دوران ایرانی مسلح افواج نے اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کر لی ہیں، اور اگر امریکہ نے جنگ دوبارہ شروع کی تو اس کے نتائج پہلے سے زیادہ سخت اور تلخ ہوں گے۔

#امریکہ ایران معاہدہ
#ڈونلڈ ٹرمپ
#ایران
#امریکہ
#جوہری معاہدہ
#آبنائے ہرمز
#مارکو روبیو