اسرائیل غزہ سے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے والے مریضوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے: غزہ کے محکمۂ صحت کا دعویٰ

16:429/06/2026, منگل
جنرل9/06/2026, منگل
ویب ڈیسک
غزہ میں ہزاروں افراد علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقلی کے منتظر ہیں۔
غزہ میں ہزاروں افراد علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقلی کے منتظر ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ علاج کی غرض سے بیرونِ ملک جانے والے 17000 فلسطینیوں کے سفر میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس سے ان مریضوں کی اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے جو علاج کے منتظر ہیں۔

غزہ کی نائب وزیر صحت مہر شامیہ نے الشفا میڈیکل کمپلیکس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں نے 20 مئی تک 17 ہزار 757 مریضوں کو بیرونِ ملک علاج کے لیے ریفر کیا تھا۔ ان کے بقول تب سے صرف 3226 افراد ہی رفح بارڈر اور کرم ابو سالم بارڈرز کراسنگز کے ذریعے غزہ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں 1204 مریض تھے۔

اسرائیل کی دو سالہ جنگ کے نتیجے میں غزہ کا نظام صحت تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اسپتالوں اور طبی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچنے کے ساتھ ادویات، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ فروری میں امریکی سرپرستی میں ہونے والی جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت جزوی طور پر دوبارہ کھولی گئی تھی۔ یہ گزرگاہ مئی 2024 میں اسرائیلی فوج کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد تقریباً 20 ماہ تک بند رہی تھی۔

تاہم ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد فروری کے آخر میں یہ راستہ دوبارہ بند کر دیا گیا تھا۔ مارچ اور اپریل میں محدود پیمانے پر اسے پھر جزوی طور پر بحال کیا گیا۔

21 مئی سے رفح کراسنگ صرف پیدل آمدورفت کے لیے محدود بنیادوں پر کھلی ہے جہاں اسرائیلی نگرانی میں روزانہ درجنوں مریضوں، زخمیوں اور انسانی ہمدردی کے کیسز کو باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے جب کہ ہزاروں مریض اب بھی غزہ میں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کے منتظر ہیں۔

غزہ کے صحت حکام کے مطابق علاج کے مستحق مریضوں اور باہر جانے کی اجازت پانے والوں کی تعداد میں بڑا فرق ایک خطرناک انسانی بحران کو جنم دے رہا ہے۔ اس سے مریضوں کی تکالیف بڑھ رہی ہیں اور اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

محکمۂ صحت کی ترجمان شامیہ نے کہا کہ اس بحران کی بنیادی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق طویل سیکیورٹی جانچ پڑتال اور سرحدی گزرگاہوں کے محدود دنوں میں کھلنے کی وجہ سے مریضوں کے انخلا میں نمایاں کمی آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کے ذریعے سفر اب زیادہ سے زیادہ ہفتے میں صرف تین دن ممکن ہے جب کہ طبی انخلا کے لیے اسرائیل کے ساتھ واقع کرم شالوم کراسنگ کے ذریعے مصر جانے کے لیے ہفتے میں صرف ایک دن مختص کیا گیا ہے۔

شامیہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات دراصل غزہ کے مریضوں کو بیرونِ ملک خصوصی طبی سہولیات تک رسائی سے روکنے کی ایک منظم پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر غزہ کے اسپتالوں اور طبی مراکز کی بحالی اور جدید آلات سے لیس کرنے کا عمل تیز کیا جائے تو بڑی تعداد میں مریضوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر بھیجنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

اسرائیل نے 2007 سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ موجودہ جنگ کے نتیجے میں تقریباً 24 لاکھ آبادی میں سے 15 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی کارروائیوں میں تقریباً 73 ہزار فلسطینی ہلاک جبکہ 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

#غزہ
#اسرائیل
#رفح بارڈر کراسنگ
#مریض
#انسانی بحران