
این ڈی ایم اے نے لوگوں کو غیر ضروری سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پاکستان میں تیز بارشوں اور سیلابی صورتحال کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 221 تک پہنچ گئی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 26 جون سے اب تک پاکستان بھر میں بارشوں کی وجہ سے مختلف حادثات میں 221 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان میں 104 بچے، 77 مرد اور 40 خواتین شامل ہیں۔
پنجاب میں سب سے زیادہ 135 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، خیبر پختونخوا میں 46، سندھ میں 22، بلوچستان میں 16 جبکہ آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں ایک ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ 21 سے 25 جولائی کے دوران شدید بارشوں کے باعث چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، کوہستان، ایبٹ آباد، بونیر، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی، مردان، مری، گلیات، اسلام آباد/راولپنڈی، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں، شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں مقامی ندی نالوں میں اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) آنے کا خطرہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، اوکاڑہ، نوشہرہ اور پشاور کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا خطرہ ہے۔
اسی دوران مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان جیسے حساس علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے سے سڑکیں بند ہو سکتی ہیں۔
مزید یہ کہ شدید بارش، آندھی اور بجلی گرنے سے کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں، بل بورڈز، گاڑیوں اور سولر پینلز کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے 18 جولائی کو ایک پریس ریلیز میں خبردار کیا تھا کہ سندھ اور بالائی علاقوں میں داخل ہونے والے مون سون کے سلسلے 20 جولائی سے وسطی اور بالائی علاقوں میں شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں مون سون کے موسم میں ہر سال 70 سے 80 فیصد بارشیں ریکارڈ ہوتی ہیں۔ یہ انڈیا میں جون کے شروع میں اور پاکستان میں جون کے آخر میں شروع ہوتا ہے اور ستمبر تک چلتا ہے۔
یہ بارشیں زراعت، کھانے پینے اور لاکھوں کسانوں کے روزگار کے لیے بہت ضروری ہیں، لیکن بدلتا موسم اور شدید موسم کے واقعات انہیں نقصان دہ بھی بنا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 2022 میں ریکارڈ توڑ مون سون بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے کے باعث پاکستان کا تقریباً ایک تہائی حصہ ڈوب گیا تھا، جس میں 1,700 سے زائد افراد جاں بحق اور 80 لاکھ سے زائد بے گھر ہو گئے تھے۔ رواں سال مئی میں بھی شدید طوفانوں اور اولے کی بارش کے باعث کم از کم 32 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔






