
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی رہنماؤں کے درمیان گرین لینڈ کے معاملے پر بھی اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔ یورپی رہنما ٹرمپ کے گرین لینڈ پر امریکی قبضے سے متعلق بیانات کو مسترد کر رہے ہیں جب کہ امریکہ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس سے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'فوجی کارروائی بھی ہمیشہ ایک آپشن رہے گا۔'
ٹرمپ اپنی پہلی مدتِ صدارت سے گرین لینڈ خریدنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں جو ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے۔ تاہم وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات میں بھی شدت آ گئی ہے اور انہوں نے اسٹرٹیجک وجوہات کی بنیاد پر گرین لینڈ کو امریکہ کے قبضے میں لینے کی بات کی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ روسی اور چائنیز بحری جہازوں سے گھرا ہوا ہے۔ ہمیں گرین لینڈ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے چاہیے اور ڈنمارک کے پاس ہماری قومی سلامتی کا تحفظ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
منگل کو وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ایک بیان میں کہا کہ 'صدر ٹرمپ یہ واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کو حاصل کرنا امریکہ کی قومی سلامتی کی ترجیح ہے اور یہ آرکٹک خطے میں ہمارے مخالفین کو روکنے کے لیے بہت ضروری ہے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم خارجہ پالیسی کے اس اہم ہدف کو حاصل کرنے کے لیے متعدد آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ امریکی فوج کو استعمال کرنے کا آپشن بھی ہمیشہ موجود رہے گا۔'
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے اس بیان پر ڈنمارک کے ساتھ فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور برطانیہ کا بھی ڈنمارک کے حق میں ردعمل سامنے آیا ہے۔

ڈینش وزیرِ اعظم نے کہا کہ 'گرین لینڈ اس کے عوام کی ملکیت ہے۔ یہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کی صوابدید ہے کہ وہ اپنے متعلق معاملات کا فیصلہ کریں۔'
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے بھی ڈنمارک کے ساتھ حمایت کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ ماہ گرین لینڈ کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے فرانس میں واقع کینیڈا کے سفارت خانے میں ڈینش وزیرِ اعظم کے ساتھ کھڑے ہو کر بیان دیتے ہوئے کہا کہ 'گرین لینڈ اور ڈنمارک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف ڈنمارک کے عوام کے پاس ہے۔'
یاد رہے کہ ٹرمپ کینیڈا کو بھی امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی بات کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔
گرین لینڈ کیوں اہم ہے؟
گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو ایسی معدنیات سے مالا مال ہے جو کمپیوٹر، اسمارٹ فونز، بیٹریوں، سولر اور ونڈ ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے لیے بہت اہم ہیں۔ تاہم اس جزیرے کا بیش تر حصہ مکمل طور پر برف سے ڈھکا ہوا ہے۔

2009 میں ایک قانون سازی کے ذریعے ڈنمارک کو خود مختار حیثیت دی گئی اور اس کی آزادی کا حق تسلیم کیا گیا۔ گرین لینڈ کی آبادی صرف 57 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ 2009 میں اسے ایک معاہدے کے تحت آزادی کا اعلان کرنے کا حق دیا گیا۔ لیکن اب بھی یہ ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خود مختار علاقہ ہے جس کی معیشت مکمل طور پر ڈنمارک کی جانب سے ملنے والی سبسڈیز اور ماہی گیری پر منحصر ہے۔
یہ جزیرہ یورپ اور شمالی امریکہ کے درمیان واقع ہے جس کی وجہ سے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ایک طرف اس کی معدنیات امریکہ کی دلچسپی کی وجہ ہیں تو دوسری جانب اس کی اسٹرٹیجک لوکیشن امریکہ کے بیلسٹک میزائل ڈیفینس سسٹم کے لیے ایک کلیدی اور موزوں مقام ہے۔







