
افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے اتوار کو بگرام کے فوجی اڈے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ تاہم پاکستان کی جانب سے ان حملوں سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
افغانستان کے صوبے پروان، جہاں بگرام ایئربیس واقع ہے، کی پولیس کے صوبائی ترجمان فضل رحیم مسکنیار نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا کہ 'صبح پانچ بجے کے قریب پاکستانی فوج کے متعدد لڑاکا طیاروں نے بگرام ایئربیس کی حدود میں بمباری کی ہے۔'
انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغان فورسز نے اینٹی ایئرکرافٹ ہتھیاروں کے ذریعے میزائلوں کو تباہ کر دیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کے مطابق پاکستان کے فوجی حکام نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
افغانستان کی وزارتِ دفاع نے ایک اور بیان میں پاکستان میں نور خان ایئربیس سمیت متعدد اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانئے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ افغانستان کی ایئرفورس کے اس فضائی آپریشن میں ان تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
افغان وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ یہ حملے پاکستان کے کابل، بگرام اور دیگر علاقوں میں کیے گئے حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
بگرام ایئربیس کتنا اہم ہے؟
بگرام ایئربیس افغانستان میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ تھا جو 20 سال تک امریکی کارروائیوں کا مرکز بنا رہا۔ افغانستان میں جب طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو اس فوجی اڈے سے امریکی و اتحادی افواج کے انخلا کے بعد انہوں نے بگرام پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار بگرام ایئربیس واپس کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ وہ بارہا کہتے آئے ہیں کہ امریکہ کو بگرام ایئربیس خالی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا اور وہ اسے واپس لینا چاہتے ہیں۔ گزشتہ سال ستمبر میں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'ہم اسے واپس حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں کیوں کہ انہیں بھی ہم سے کچھ چاہیے۔'
ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ بگرام امریکہ کے لیے اسٹرٹیجک اہمیت رکھتا ہے کیوں کہ 'یہ چائنہ میں اس مقام سے صرف ایک گھنٹے کی فضائی مسافت پر ہے کہاں چائنہ اپنے ایٹمی ہتھیار بناتا ہے۔' افغان طالبان ٹرمپ کے اس مطالبے کو مسترد کر چکے ہیں۔
پاکستان اور افغان طالبان کی جھڑپیں اور کارروائیاں جاری
دوسری جانب پاکستان اور افغان طالبان کی جھڑپیں اور ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ پاکستان نے طالبان کی درجنوں سرحدی چوکیاں، فوجی اڈے، اسلحہ ڈپو اور عسکری تنصیبات تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اتوار کو پاکستان نے کابل میں بھی فضائی حملے کیے ہیں جس کے بعد اتوار کی رات گئے تک دونوں ملکوں کی فورسز کی جھڑپیں جاری رہیں۔ افغان طالبان کے جنگجو اینٹی ایئرکرافٹ گنز کے ذریعے کابل کی فضاؤں میں پاکستانی طیاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق مقامی افراد نے بتایا کہ کابل کے مختلف علاقوں میں رات بھر فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ شہر میں کن اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور کیا نقصانات ہوئے ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ہے کہ آوازیں افغان فورسز کی کارروائی کی تھیں جس میں وہ پاکستانی لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی طیاروں کے خلاف دفاعی حملے کیے جا رہے تھے اور کابل کے شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان کی وزارتِ اطلاعات، فوج اور وزیر اعظم کے دفتر نے معاملے پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
تاہم اتوار کی شام وزیرِ اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے افغانستان میں حملوں سے متعلق تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی کارروائیوں میں 415 طالبان اہلکار ہلاک اور 580 زخمی ہو چکے ہیں۔ 182 چوکیوں کو تباہ اور 31 کو قبضے میں لیا گیا ہے جب کہ 185 فوجی و بکتربند گاڑیاں، ٹینک اور توپیں تباہ کر دی گئی ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا تھا کہ افغانستان میں 46 مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی نے پیر کو سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خوست میں پاک افواج نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کا اسلحے کا گودام تباہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ طالبان بھی اسی طرح پاکستانی فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ پیر کی صبح افغان طالبان کی وزارتِ دفاع نے ایک پاکستانی ٹینک تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تاہم دونوں فریقین کے ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔






