
ترکیہ میں حکام نے ایران کے لیے جاسوسی کے شبے میں ایک ایرانی شہری سمیت چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ترکیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے 'انادلو ایجنسی' نے بدھ کو رپورٹ کیا ہے کہ گرفتاریاں پانچ صوبوں میں انٹیلی جینس کے ادارے اور انسدادِ دہشت گردی کی پولیس کے بیک وقت منظم آپریشنز کے بعد عمل میں لائی گئیں۔
گرفتار افراد پر شبہ ہے کہ یہ ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے ارکان سے رابطے میں تھے اور ترکیہ میں فوجی اڈوں اور حساس تنصیبات کی معلومات جمع کر رہے تھے۔
سرکاری بیان اور کیس کی دستاویزات کے مطابق مشتبہ افراد ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جینس افسران کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھے۔ گرفتار افراد پر ترک فوجی تنصیبات کی انتہائی حساس معلومات جمع کرنے کا الزام ہے۔
حکام کے مطابق مشتبہ افراد کی سب سے زیادہ توجہ نیٹو کی ترکیہ میں قائم انکرلک ایئربیس کی جاسوسی پر تھی۔ یہ فوجی اڈہ ترکیہ کے ادانا صوبے میں قائم ہے جہاں امریکی اور اتحادی ممالک کی افواج کے اہلکار موجود ہوتے ہیں۔
ترکیہ کے حکام کے مطابق مشتبہ افراد نیٹو کے فوجی اڈے کی نگرانی اور جاسوسی کے مشنز میں شامل رہے۔ اس کے علاوہ ان پر ترکیہ میں ڈرون کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔
انقرہ میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے ان گرفتاریوں سے متعلق فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
یہ گرفتاریاں ایسے وقت ہوئی ہیں جب خطے میں تناؤ بڑھ رہا ہے اور ایران پر امریکی حملے کا خدشہ ہے۔ ترکیہ نے حال ہی میں ایران کی حمایت میں بیان بھی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران میں غیر ملکی مداخلت سے عدم استحکام بڑھے گا۔






