برطانوی وزیرِ اعظم کی بیجنگ میں چینی صدر شی سے ملاقات، 'دونوں ملکوں کے درمیان پروقار تعلقات چاہتے ہیں'

10:3329/01/2026, Perşembe
جنرل29/01/2026, Perşembe
ویب ڈیسک
دونوں رہنماؤں کی ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے پر محیط تھی جس کے بعد دونوں نے ظہرانے میں شرکت کی۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے پر محیط تھی جس کے بعد دونوں نے ظہرانے میں شرکت کی۔

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر چائنہ کے دورے پر ہیں جہاں ان کی صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی ہے۔ جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے چینی صدر کو کہا کہ وہ سیکیورٹی اور ترقی کے فروغ کے لیے بیجنگ کے ساتھ 'پروقار تعلقات' کا قیام چاہتے ہیں۔

برطانیہ کی جانب سے چائنہ کو یہ پیغام برسوں کے کشیدہ تعلقات کے بعد حالات کو معمول پر لانے کے تناظر میں خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ کسی بھی برطانوی وزیرِ اعظم کا پچھلے آٹھ سال میں پہلا دورہ چین ہے۔

اپنے چار روزہ دورے کے سب سے اہم دن کے موقع پر کیئر اسٹارمر نے چائنیز صدر شی کے ساتھ وفود کی سطح پر تقریباً 80 منٹ طویل ملاقات کی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے ساتھ ظہرانے میں بھی شرکت کی۔ بعد ازاں برطانوی وزیرِ اعظم نے اپنے چائنیز ہم منصب سے بھی ملاقات کی۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے صدر شی سے ملاقات میں مزید کہا کہ 'چائنہ عالمی سطح پر اہم حیثیت رکھتا ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم ایسے پروقار تعلقات قائم کریں جس سے ہم تعاون کے مواقع کی نشان دہی کر سکیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ جن معاملات پر ہمارا اختلاف ہے ہمیں اس پر بامعنی مذاکرات کرنے ہوں گے۔

اس موقع پر چائنیز صدر نے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ تعلقات کافی نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں جو کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چائنہ طویل المدتی اسٹریٹیجک شراکت داری کے لیے تیار ہے۔

صدر شی نے مزید کہا کہ 'ہم ایسے نتائج دے سکتے ہیں جو تاریخ کے امتحان کے سامنے بھی کھڑے ہو سکتے ہیں۔'

برطانوی وزیرِ اعظم کا یہ اہم دورہ چین ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب مغربی ممالک کے امریکہ کے ساتھ تعلقات مختلف معاملات پر تناؤ اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ٹیرف کی دھمکیوں، گرین لینڈ پر قبضے کے معاملے نے مغربی اتحادیوں کے امریکہ پر اعتماد کو کمزور کیا ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم سے قبل کینیڈا کے وزیرِ اعظم مائیک کارنی بھی بیجنگ کا دورہ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک معاشی معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے۔

بعض ماہرین کو امید ہے کہ برطانیہ اور چائنہ کئی معاہدوں پر دستخط کریں گے جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کی عکاسی ہوگی۔

##چائنہ
##برطانیہ
##کیئر اسٹارمر