یورپ میں اموات کی بڑی وجہ دل کے امراض، ایک سال میں 17 لاکھ لوگوں کی جانیں گئیں

01:5516/01/2026, Cuma
جنرل20/01/2026, Salı
AA
فائل فوٹو
فائل فوٹو

یورپ میں اموات کی سب سے بڑی وجہ دل کی بیماریاں ہیں جن سے ایک سال میں 17 لاکھ لوگوں کی موت ہوئی۔

ترکیہ کی خبر ایجنسی انادلو کے مطابق انسانی صحت اور بیماریوں پر ریسرچ کرنے والے ادارے ’تھیراپیوٹکس ایریا ڈپارٹمنٹ اور یورپین میڈیسن ایجنسی نے جمعرات کو رپورٹ جاری کی ہے۔

انسانوں کے لیے استعمال ہونے والی ادوایات کے حوالے سے ہونے والی پریس بریفنگ میں ریسرچر ’فرانسیکا ڈے‘ نے بتایا کہ یہ بیماریاں معذوری کا باعث بنتی ہیں۔ ان بیماریوں سے زندگی گزارنے کا معیار متاثر ہوتا ہے اور زندگی کی متوقع مدت بھی کم ہوتی ہے۔

فرانسیکا ڈے نے کہا کہ ’یورپ میں اموات کی سب سے بڑی وجہ دل کی بیماریاں ہیں جن سے ایک سال میں 17 لاکھ لوگوں کی موت ہوتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان بیماریوں یہ رجحان پورے براعظم تک پھیل رہا ہے جس میں 54 فیصد نوجوان موٹاپے کا شکار ہیں یعنی ہر تین میں سے ایک نوجوان اس بیماری کا شکار ہے۔ 25 فیصد آبادی ہائپرٹینشن کا شکار ہے۔‘

دل کی بیماریوں کے حوالے سے فرانسیکا ڈے نے کہا کہ ’ای ایم اے کی توجہ ایسی ادویات پر مرکوز ہے جو دل کی بیماریوں سے بچاؤ اور ان کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ جبکہ ذیابیطس اور موٹاپے جیسی متعلقہ بیماریوں کے علاج کی سرگرمیاں بھی اس میں شامل ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یورپی یونین میں اندازاً 22 لاکھ افراد ٹائپ ون ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔‘

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زیابطیس کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہونے والی دوا جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونِسٹس میں عوامی دلچسپی بدستور بہت زیادہ ہے۔ یہ ادویات خون میں شوگر کی سطح کم کرنے اور بھوک کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔‘

انہوں نے خبردار کیا کہ ’یہ ادویات اعلاج کا شارٹ کٹ نہیں ہیں۔ یہ طویل مدتی علاج ہیں اور ان کے استعمال کے لیے طبی نگرانی ضروری ہے۔ ان ادویات کا غلط اور حد سے زیادہ استعمال حقیقی خدشات کو جنم دے رہا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ 2025 میں یورپی میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) نے مارکیٹنگ کی منظوری کے لیے 104 نئی ادویات کی سفارش کی جن میں 38 ایسی ادویات شامل تھیں جن میں ایسے نئے فعال اجزا موجود تھے جنہیں اس سے قبل یورپی یونین میں کبھی منظور نہیں کیا گیا تھا۔

#یورپ
#ہارٹ اٹیک
#موٹاپا
#بیماریاں
#اعلاج