
بنگلہ دیش میں آج ہونے والے عام انتخابات میں پولنگ کا عمل جاری ہے اور پولنگ اسٹیشنز پر لوگوں کی گہما گہمی نظر آ رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے 12 کروڑ 70 لاکھ کے قریب رجسٹرڈ ووٹرز آج شام 4:30 بجے تک ووٹ ڈال کر 350 رکنی پارلیمنٹ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں جمعرات کو الیکشن کے ساتھ ایک آئینی ریفرینڈم پر بھی رائے شماری ہو رہی ہے۔ اس ریفرینڈم کے نتائج کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ جولائی کے چارٹر میں جن اصلاحات اور نظام میں تبدیلیوں کی بات کی گئی تھی، ان پر عمل درآمد ہونا چاہیے یا نہیں۔
پولنگ اسٹیشن آنے والے ووٹرز کو دو بیلٹ پیپر دیے جا رہے ہیں۔ ایک کے ذریعے وہ اپنے نمائندے کا انتخاب کریں گے جب کہ دوسرا آئینی ریفرنڈم پر رائے سے متعلق ہے۔
بنگلہ دیش کے یہ الیکشن ماضی کے الیکشنز سے بہت مختلف ہیں اور کافی اہم بھی۔ ان انتخابات میں پہلی بار بیرون ملک مقیم بنگلہ دیشی ووٹرز کی طرف سے بھیجے گئے بیلٹ بھی قبول کیے جا رہے ہیں۔ اور ایسا کئی دہائیوں بعد ہو رہا ہے جب الیکشنز میں شیخ حسینہ اور ان کی حریف خالدہ ضیا دونوں ہی شریک نہیں ہیں۔
خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے طارق الرحمان الیکشن لڑ رہے ہیں جب کہ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہے۔
تو پھر مقابلہ ہے کس کے درمیان؟
بنگلہ دیش میں تین بڑی پولیٹیکل پارٹیز ہیں۔ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ، خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش جس پر شیخ حسینہ کی حکومت میں پابندی تھی۔ اس کے علاوہ درجنوں چھوٹی سیاسی جماعتیں بھی ہیں جن میں طلبہ کی سیاسی جماعت این سی پی بھی شامل ہے۔
شیخ حسینہ کی پارٹی پر الیکشن کمیشن نے پابندی لگا دی ہے جس کے باعث اسے الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ باقی دونوں بڑی پولیٹیکل پارٹیاں دو اتحادوں کی شکل میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
بی این پی نے تقریباً چھ سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر کے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں اور اسی طرح جماعتِ اسلامی بھی گیارہ پارٹیوں کے اتحاد کے ساتھ الیکشن میں اتری ہے۔ بنگلہ دیش کے طلبہ جن کے مظاہروں کی وجہ سے شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہوئی تھی، ان کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑ رہی ہے۔
الیکشن کے نتائج آج رات تک واضح ہونا شروع ہو جائیں گے تاہم پولز میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے اتحاد کو برتری حاصل ہے۔ اگر بی این پی الیکشن جیتتی ہے تو اس کے سربراہ یعنی خالدہ ضیا کے بیٹے طارق الرحمان وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔
دوسری جانب اگر جماعت اسلامی کا اتحاد فتح یاب ہوتا ہے تو جماعت کے سربراہ شفیق الرحمان ممکنہ طور پر وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔ وزارتِ عظمیٰ کے یہ دونوں ممکنہ امیدوار اپنا اپنا ووٹ کاسٹ کر چکے ہیں۔
بنگلہ دیش کے یہ الیکشن 2024 کے پرتشدد مظاہروں اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلے الیکشن ہیں۔ 2024 سے بنگلہ دیش میں عبوری حکومت قائم ہے۔






