
صدر ایردوان اپنا دورہ مکمل کرنے کے بعد اپنے وفد کے ہمراہ بدھ کو سعودی عرب سے روانہ ہو گئے ہیں۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے منگل کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
ترک صدر نے سعودی ولی عہد کو باور کرایا کہ انقرہ توانائی اور دفاعی صنعتوں سمیت مختلف شعبوں میں ریاض کے ساتھ تعلقات کو بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔
ترک صدر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ایردوان نے سعودی ولی عہد کو شام میں استحکام کے لیے ترکیہ کی بھرپور حمایت جاری رہنے کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ شام کی تعمیرِ نو کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوا ہے جس میں ملک کی علاقائی سلامتی کے لیے شامی حکومت کے اقدامات کو سراہا گیا ہے۔ اعلامیے میں شام کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر اسرائیل کی مذمت کی گئی ہے اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شام کے قبضہ شدہ تمام علاقوں سے فوری انخلا کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں سوڈان، فلسطینی علاقوں اور یمن میں امن و استحکام کے قیام پر بھی زور دیا گیا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ بھی اعلامیے کا حصہ ہے۔
ترکیہ نے یمن کے تنازع میں سعودی عرب کی کوششوں کو اور مذاکرات کے لیے تمام یمنی دھڑوں کو ریاض میں اکٹھا کرنے کے انتظام کو سراہا ہے۔
دونوں ممالک نے یمن کے اندرونی معاملات میں کسی ایک دھڑے کی حمایت کی مخالفت پر زور دیا ہے تاکہ سیکیورٹی اور استحکام کو مجروح نہ کیا جا سکے۔






