ٹرمپ نے درجنوں ممالک کو غزہ کے 'بورڈ آف پیس' کا چارٹر بھجوا دیا، مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر مانگ لیے

12:1019/01/2026, پیر
جنرل19/01/2026, پیر
ویب ڈیسک
ڈونلڈ ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی حکومت نے تقریباً 60 ملکوں کو ایک چارٹر کا مسودہ بھجوا دیا ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ بورڈ آف پیس میں مستقل رکنیت حاصل کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی رقم دینے کا تقاضا کیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق مسودے میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ بورڈ میں رکنیت چاہتے ہیں تو ایک ارب ڈالر کیش جمع کرائیں۔

یہ بھی درج ہے کہ 'چارٹر کے نافذ العمل ہونے کے بعد ہر رکن ریاست کو صرف تین سال کی رکنیت دی جائے گی۔ اور اس مدت میں توسیع بورڈ کا چیئرمین کر سکے گا۔'

'لیکن جو اس چارٹر کے نافذ ہونے کے پہلے سال کے اندر بورڈ آف پیس کے کیش فنڈ میں ایک ارب ڈالر جمع کرائے گا، اس رکن پر تین سالہ مدت کا اطلاق نہیں ہوگا۔'

چارٹر کے مسودے میں بورڈ آف پیس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ 'یہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہوگی جو تنازع کا شکار یا اس کے خطرے سے دوچار علاقوں میں استحکام کے فروغ، قانونی حکمرانی کی بحالی اور دیرپا امن کے قیام کے لیے کام کرے گی۔'

چارٹر اس وقت قانونی حیثیت اختیار کر لے گا جب کم از کم تین رکن ممالک اس پر اتفاق کر لیں۔ مسودے میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر اس گروپ کی منظوری دیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد عالمی رہنماؤں کو غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے۔ غزہ کا بورڈ آف پیس ٹرمپ کے اس وسیع بورڈ کا حصہ ہوگا۔

ٹرمپ کے اس منصوبے کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منصوبے کی تفصیلات اسرائیل کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں۔

##ٹرمپ
##بورڈ آف پیس
##غزہ