
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملکی تاریخ کے طویل ترین 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب میں کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔
اسٹیٹ آف دی یونین ہے کیا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کانگریس سے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کیا۔ امریکہ میں یہ روایت ہے کہ صدر سال میں ایک مرتبہ کانگریس کے دونوں ایوانوں سے مشترکہ خطاب کرتا ہے جسے اسٹیٹ آف دی یونین کہا جاتا ہے۔
اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدور اپنی حکومت کی پالیسیاں اور ترجیحات بیان کرتے ہیں اور کانگریس کو مناسب اور ضروری اقدامات بھی تجویز کرتے ہیں۔ یہ خطاب ایوان نمائندگان، سینیٹ، سپریم کورٹ اور ڈپلومیٹک کور کے ارکان اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی موجودگی میں ایوانِ نمائندگان کی عمارت میں ہوتا ہے۔

تاہم ٹرمپ کا 2026 کا خطاب اسٹیٹ آف دی یونین کی تاریخ کا طویل ترین خطاب رہا جو ایک گھنٹہ 47 منٹ تک جاری رہا۔ امریکی صدر نے اس دوران ملک کے اندرونی و بیرونی مسائل سمیت کئی موضوعات پر بات کی۔
ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کیا کہا؟
اس دوران ایران کا بھی ذکر کیا جس کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی صورت بھی ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ان کی ترجیح ہوگی کہ مسائل کا حل سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے۔
انہوں نے کہا 'ہم ان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ وہ بھی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے اب تک ان سے یہ جادوئی الفاظ نہیں سنے کہ ہم کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے۔'

ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایسے میزائل بنا رہا ہے جو امریکہ تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ان کے بقول 'وہ پہلے ہی ایسے میزائل بنا چکے ہیں جو یورپ اور ہمارے غیر ملکی فوجی اڈوں کے لیے خطرہ ہیں اور اب وہ ایسے میزائلوں پر کام کر رہے ہیں جو جلد امریکہ تک پہنچ جائیں گے۔'
ٹرمپ نے ایران کے بارے میں یہ بیان ایسے موقع پر دیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں شروع ہونے جا رہا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے جنیوا جا رہا ہے 'اس عزم کے ساتھ کہ کم سے کم وقت میں ایک منصفانہ معاہدہ کیا جائے۔'






