
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منگل کو امریکہ اور ایران کے بالواسطہ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں جس میں دیرینہ جوہری تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ان مذاکرات میں شریک ہیں۔ جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بھی بالواسطہ طور پر مذاکرات میں شامل رہیں گے۔ ایران کی طرف سے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ عہدے دار نمائندگی کر رہے ہیں۔
دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں جن کا پہلا دور مسقط میں ہی ہوا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ تہران معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا۔ اپنے سرکاری جہاز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پیر کو کہا کہ 'مجھے نہیں لگتا کہ وہ معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں ہونے والے نتائج کا خطرہ مول لیں گے۔ ہم بی ٹو طیاروں کے ذریعے ان کی جوہری صلاحیت کو تباہ کرنے کی جگہ معاہدہ بھی کر سکتے تھے مگر ہمیں بی ٹو بھیجنا پڑے تھے۔'
دوسری جانب ایران کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکہ ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور غیر حقیقی مطالبات سے اجتناب برتنے پر آمادہ ہے یا نہیں۔'
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ 'تہران جائز اور تعمیری تجاویز لے کر مذاکرات کی میز پر جا رہا ہے۔'
ایران اور امریکہ کے مذاکرات اقوامِ متحدہ میں عمان کے سفیر کی رہائش گاہ پر ہو رہے ہیں اور اس موقع پر سخت سیکیورٹی انتطامات کیے گئے ہیں۔
مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں امریکہ نے ایران پر حملے کی دھمکی دے رکھی ہے اور اپنے دو طیارہ بردار بحری بیڑے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کر دیے ہیں۔ ان میں سے ایک بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہے اور امریکی فوج ٹرمپ کے حکم پر کسی ممکنہ طویل حملے کی تیاریاں کر رہی ہے۔
ایران نے بھی پیر سے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ ایران نے حملے کی صورت میں امریکہ کے تمام فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔






