جنگ کے خاتمے کی کوئی ٹائم لائن نہیں اور ایران کو پتھر کے دور میں بھیجنے کی دھمکی، ٹرمپ نے امریکی قوم سے خطاب میں کیا کہا؟

10:022/04/2026, جمعرات
جنرل2/04/2026, جمعرات
ویب ڈیسک
ٹرمپ کا خطاب پرائم ٹائم پر نشر ہوا۔
ٹرمپ کا خطاب پرائم ٹائم پر نشر ہوا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب اپنے ایک اہم خطاب میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق اپنی پالیسی کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج اپنا مشن مکمل کرنے کے قریب ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایران کو 'پتھر کے دور میں واپس بھیجنے' کی دھمکی بھی دہرائی۔

19 منٹ کے اس خطاب کے دوران عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں اور اپنی کم ہوتی مقبولیت کے پس منظر میں ٹرمپ نے کئی اہم نکات پر بات کی۔

جنگ کا خاتمہ؟ ابھی نہیں

جنگ سے تھکے ہوئے امریکی عوام اور گرتی ہوئی مقبولیت کے دباؤ کے باوجود ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے اور اس کے بیلسٹک میزائل و جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں حملے 'انتہائی شدت' کے ساتھ جاری رہیں گے۔

تاہم اس کے باوجود انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن دینے سے گریز کیا اور عندیہ دیا کہ اگر ایران نے مذاکرات میں امریکی شرائط نہ مانیں تو جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے جس میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے ہر لمحہ بدلتے بیانات اس تنازع میں غیر یقینی برقرار رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے عالمی معاشی منڈیوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ کسی بیان میں وہ سفارتی حل کی طرف بڑھنے کی بات کرتے ہیں اور جنگ کے جلد خاتمے کا عندیہ دیتے ہیں تو اگلے ہی لمحے کسی اور بیان میں وہ ایران کو مزید شدت سے نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے نظر آتے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے ایک ہی خطاب میں دھمکیوں اور سفارتی حل دونوں کا ذکر کرنے سے مالیاتی منڈیوں اور امریکی عوام میں بے چینی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے متضاد بیانات نے صورتِ حال کو مزید الجھا دیا ہے۔

آبنائے ہرمز: فیصلہ کن مسئلہ

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ واضح نہیں کیا کہ آیا امریکی فوجی کارروائیاں آبنائے ہرمز کھلنے سے پہلے ختم ہو سکتی ہیں یا نہیں۔ یہ اہم آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے اور اس پر ایران کا کنٹرول عالمی سطح پر توانائی کے بحران کا سبب بنا ہوا ہے۔

انہوں نے خلیجی ملکوں کے تیل پر انحصار کرنے والے ممالک سے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے خود آگے بڑھیں اور یہ بوجھ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا امریکہ کو اس خطے سے توانائی کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب امریکہ کے مغربی اتحادی اس جنگ میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔ کیوں کہ ان کے مطابق یہ تنازع امریکہ اور اسرائیل نے ان سے مشورہ کیے بغیر شروع کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خدشہ یہ ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کلیدی قوت حاصل ہو جائے گی جس سے خلیجی ریاستیں بھی خوش نہیں ہوں گی۔

کیا امریکہ کا مشن واقعی مکمل ہوا؟

ٹرمپ جنگ میں امریکی کامیابیوں کا ذکر کر رہے ہیں مگر یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا وہ اپنا بنیادی ہدف، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، حاصل کر پائے ہیں یا نہیں۔

جنگ کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ایران کے پاس افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے جو ممکنہ طور پر زیرِ زمین محفوظ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اچانک اپنے پہلے مؤقف سے ہٹتے ہوئے کہا ہے کہ اب انہیں اس یورینیم کی فکر نہیں کیونکہ وہ 'بہت گہرائی میں' ہے اور امریکی سیٹلائٹس اس پر نظر رکھ سکتی ہیں۔

انہوں نے اس ذخیرے کو کہیں اور منتقل کرنے کی صورت میں ایران پر دوبارہ فضائی حملوں کی دھمکی بھی دی لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ اسے قبضے میں لینے کے لیے کوئی اسپیشل فورس بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں کیوں کہ امریکی حکام یہ کہہ چکے تھے کہ یہ تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

ایران کی عسکری صلاحیت برقرار

اگرچہ ٹرمپ ایران کی فوجی طاقت کو تباہ کرنے کے دعوے مسلسل دہرا رہے ہیں۔ تاہم ایران نے دکھایا ہے کہ اس کے باقی ماندہ میزائل اور ڈرونز اب بھی اسرائیل، خلیجی اتحادیوں اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ایران کی حکومت کو گرانے کے حوالے سے بھی ٹرمپ کے ابتدائی بیانات حقیقت میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ اگرچہ ایران کے کئی اعلیٰ عہدے دار مارے جا چکے ہیں مگر ان کی جگہ مزید سخت مؤقف رکھنے والے افراد نے لے لی ہے۔ یعنی صرف چہرے بدلے ہیں، رجیم اب بھی برقرار ہے۔

اندرونی سیاست اور عوامی ردعمل

یہ خطاب 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد ٹرمپ کا پہلا اہم خطاب تھا جس کا مقصد امریکی عوام کے خدشات کم کرنا تھا۔ تاہم انہوں نے مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں پر عوامی تشویش کو عارضی قرار دیا۔

انہوں نے کہا 'بہت سے امریکی پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر پریشان ہیں۔ یہ عارضی اضافہ مکمل طور پر ایرانی حکومت کے غیر ذمے دارانہ حملوں کا نتیجہ ہے۔ وہ کمرشل آئل ٹینکروں اور پڑوسی ملکوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن کا اس تنازع سے کوئی لینا دینا نہیں۔'

اگرچہ ٹرمپ کے حامی اب تک ان کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم بڑھتی مہنگائی اور طویل جنگ ان کی مقبولیت کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے، خاص طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل۔ ایک سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت 36 فیصد تک گر چکی ہے، جو ان کی دوسری ٹرم کی کم ترین سطح ہے۔

ٹرمپ کے خطاب کے بعد ایک بار پھر اسٹاک مارکیٹس میں کمی، ڈالر میں مضبوطی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ کیوں کہ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کوئی واضح لائحہ عمل پیش نہیں کیا۔

کمزور خطاب؟

اگرچہ یہ خطاب ٹرمپ کے لیے عوام سے دوبارہ جڑنے کا موقع تھا مگر انہوں نے زیادہ تر روایتی نکات ہی دہرائے اور جنگ میں جانے کی وجوہات کو واضح نہیں کیا۔ ان کا انداز بھی غیر معمولی طور پر سنجیدہ اور مدھم رہا جو ان کے عام جارحانہ انداز سے مختلف تھا۔

##امریکہ
##ٹرمپ خطاب
##ایران جنگ