
دنیا کے بلند ترین پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے لیے چڑھائی چڑھتے مصطفیٰ سلامے صرف آکسیجن اور کوہ پیمائی کا ساز و سامان نہیں لے جا رہے، بلکہ ان کے پاس ایک غیر معمولی چیز بھی ہے۔ ایک پتنگ جس پر غزہ کے بچوں نے اپنے خواب اپنے ہاتھوں سے لکھے ہیں۔
جیسے راحت کا خواب جو مصنف بننا چاہتا ہے، احلم جو ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھ رہا ہے، جوڈی جو پولیس افسر بننا چاہتا ہے اور صالح جو انجینیئر بن کر غزہ کی تعمیرِ نو کا خواب دیکھ رہا ہے۔
کچھ بچوں نے انتہائی درد ناک خواہشات بھی لکھی تھیں۔ وہ صرف جنت میں اپنے والدین سے ملنا چاہتے تھے۔
منیرہ نامی بچی جس نے '47' کا عدد لکھا جو غزہ جنگ میں ہلاک ہونے والے ان کے اہلِ خانہ کی تعداد ہے۔ منیرہ اپنے ماں، پاپ، بہن بھائی، نانی اور خالہ سمیت متعدد اہلِ خانہ سے جدا ہو گئی ہیں جو غزہ جنگ کے دوران مارے گئے۔
اردن سے تعلق رکھنے والے فلسطینی کوہ پیما مصطفیٰ سلامے نے خبر رساں ادارے 'انادلو ایجنسی' کو ماؤنٹ ایورسٹ کی مہم کے موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے بتایا 'غزہ کے بچوں کے خواب وہ نہیں تھے جو ہم عام طور پر بچوں سے سنتے ہیں۔ ان کے خواب آپ کا دل زخمی کر سکتے ہیں۔'
سات چوٹیاں سر کرنے والے مصطفیٰ سلامے نے بتایا کہ انہوں نے سوچا تھا کہ وہ کبھی ماؤنٹ ایورسٹ پر نہیں جائیں گے۔ لیکن غزہ میں ہونے والی نسل کشی نے ان کا دل زخمی کر دیا اور انہیں ان کے فرض کا احساس دلایا۔
ان کے بقول 'میں نے سوچا کہ جو بھی ہم نے دیکھا ہے، غزہ کے لوگوں کا دکھ بالخصوص بچوں کا، ان لوگوں کا جنہوں نے اپنے خاندان کھو دیے، میں خود کو ناکارہ محسوس کر رہا تھا۔ میں غزہ جانا چاہتا تھا لیکن نہیں جا سکا۔'
ذاتی جدوجہد
سلامے کے لیے فلسطینیوں کی جدوجہد ان کی ذاتی لڑائی کی طرح ہے۔ وہ ان مہاجر والدین کے بیٹے ہیں جنہیں فلسطینی علاقوں سے جبراً بے دخل کیا گیا تھا۔ سلامے نے اپنا بچپن مہاجر کیمپوں میں گزارا۔
بطور مہاجر ان کی زندگی آسان نہیں تھی۔
'میں کویت میں پیدا ہوا اور عمان میں پلا بڑھا، جہاں میں اردن کے ایک مہاجر کیمپ اور کویت کے درمیان آتا جاتا رہا۔'
خلیجی جنگ کے بعد سلامے کو کویت چھوڑنا پڑا۔ 19 سال کی عمر میں انہوں نے اردن کے سفیر کی رہائش گاہ پر صفائی کا کام شروع کیا اور وہ سات سال تک یہی کام کرتے رہے۔
سلامے کے بقول 'اس وقت میرا خواب تعلیم حاصل کرنا تھا۔'
بالآخر انہوں نے اتنے پیسے جمع کر لیے کہ اسکاٹ لینڈ میں کالج جا سکیں جہاں انہوں نے ڈگری حاصل کی اور بعد میں فوڈ اینڈ بیوریج انڈسٹری میں کام کیا۔
'میں چاہتا تھا کہ میں کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں جنرل مینیجر بنوں۔ لیکن سب کچھ اُس وقت بدل گیا جب میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں دنیا کی بلند چوٹی پر کھڑا اذان دے رہا تھا۔'
سلامے نے پہلے کبھی کوہ پیمائی نہیں کی تھی لیکن پھر انہوں نے 2005 اور 2007 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش کی اور بالآخر 2008 میں وہ کامیاب ہو گئے۔
سلامے کے اسی پس منظر نے اس بار انہیں تحریک دی کہ وہ غزہ تنازع کے انسانی پہلو کو اجاگر کرنے کے لیے کوہ پیمائی کے ساتھ فنڈ ریزنگ کریں۔
ان کی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی مہم ایک بڑے پیمانے پر چلائی جانے والی امدادی کیمپین تھی۔ انہوں نے برطانیہ کی الخیر فاؤنڈیشن کے ساتھ شراکت داری سے غزہ کے لوگوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی رقم اکٹھی کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
غزہ کے بچوں کے خوابوں کی پتنگ
ہائی الٹیچیوڈ بیس کیمپ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھ ایک پتنگ لے جا رہے ہیں جس پر غزہ کے بچوں کے خواب انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے لکھے ہیں۔ مصطفیٰ سلامے اس پتنگ کو ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچنے کے بعد اڑانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ان کے بقول 'یہ وزن میں بہت ہلکی ہے لیکن یہ ان خوابوں کا اتنا وزن اٹھائے ہوئے ہے کہ دل پر بوجھ محسوس ہوتی ہے۔' مصطفیٰ سلامے کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایورسٹ سر کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ 'اس مہم کو ہمیشہ توجہ ملتی ہے۔ اور میں جو کرنا چاہتا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ اسے دنیا کے بلند ترین مقام پر پہنچنا چاہیے۔'
مصطفیٰ سلامے کو امید ہے کہ ان کا یہ سفر دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ غزہ تنازع اور فلسطینیوں کی مشکلات پر مبذول کرائے گا۔
انہوں نے انٹرویو کے دوران مزید کہا 'ہم یہاں بیس کیمپ پر ہیں جہاں ہر چیز مشکل ہے۔ سانس لینا، سونا، کھانا۔ لیکن یقین کریں کہ یہ مشکلات غزہ کے بچوں اور ان فلسطینیوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو ایک ایک دن قبضے میں گزار رہے ہیں۔'
56 سال کی عمر میں اب سلامے کا ایک دیرینہ خواب ہے جو تعبیر کا منتظر ہے۔
'میرا خواب، ان بچوں کے خوابوں کی طرح ایک آزاد فلسطین دیکھنا ہے۔ اور وہ دن آئے گا، جلد یا بدیر۔






