
گلوبل صمود فلوٹیلا کے حالیہ قافلے میں شامل سینکڑوں رضاکاروں کی گرفتاری کے بعد اسرائیل میں ان کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کیے جانے کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں جس پر عالمی برادری کا سخت ردعمل آیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے رواں ہفتے غزہ جانے کی کوشش کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل 428 ایکٹیوسٹس کو بین الاقوامی سمندر سے گرفتار کر کے اسرائیل کے اشدود پورٹ پر منتقل کر دیا تھا۔ ان میں 78 ترک شہری اور کچھ پاکستانی رضاکار بھی شامل ہیں۔
گرفتار افراد کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں جن میں ان کے ساتھ غیر انسانی اور غیر مناسب سلوک کیا جا رہا ہے۔ رضاکاروں کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا جب کہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر بین گویر ان کا مذاق اڑاتے اور اشتعال انگیزی کرتے نظر آئے۔
اسرائیلی فوجیوں نے رضاکاروں کو دھکے دیے، انہیں زدوکوب کیا اور مختلف نفسیاتی حربوں سے پریشان کرنے کی کوشش کی جب کہ بین گویر اس پر اسرائیلی فوجیوں کی تعریف کرتے رہے۔
بین گویر کے سامنے ایک خاتون رضاکار نے 'فلسطین کو آزاد کرو' کا نعرہ لگایا تو انہیں دھکا دے کر نیچے گرا دیا گیا جس پر اسرائیلی وزیر نے فوجی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ 'ان سے ایسے ہی نمٹنا چاہیے۔'
بین گویر اس کے بعد قومی پرچم لہرا کر اسرائیل زندہ باد کے نعرے بھی لگاتے رہے اور گرفتار رضاکاروں کے ساتھ اشتعال انگیزی کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے یہ تمام مناظر خود اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے اور رضاکاروں پر طنز کرتے ہوئے 'ویلکم ٹو اسرائیل' لکھا۔
گرفتار رضاکاروں کی ان تصاویر اور ویڈیوز پر دنیا بھر سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا جب کہ عالمی برادری نے بھی اسرائیل کے ان اقدامات پر آواز اٹھائی ہے۔ خود اسرائیل کے اندر بھی اس عمل کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور بین گویر پر تنقید کی جا رہی ہے۔
عالمی ردعمل
اشدود پورٹ پر گرفتار رضاکاروں کے ساتھ نامناسب رویے، اشتعال انگیزی کی کوششوں اور غیر انسانی سلوک پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے سخت تنقید کی گئی۔ کئی یورپی ممالک، جو اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی پر مبنی کارروائیوں کے حامی بھی ہیں، بھی اس واقعے پر ردعمل دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے فلوٹیلا اراکین کو غیر قانونی طور پر روکنے جانے، انہیں گرفتار کرنے اور حراست کے دوران بدسلوکی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ترکیہ نے بھی اسرائیلی اقدامات اور گرفتار اراکین کے ساتھ بدسلوکی کی مذمت کرتے ہوئے بین گویر کی حرکتوں کو بربریت کا اظہار قرار دیا ہے۔

اسپین نے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسرائیلی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ میں طلب کیا ہے۔ اسپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے درخواست کی ہے کہ یورپی یونین بین گویر پر پابندی عائد کرے جس سے وہ یورپی ملکوں کا سفر نہ کر سکیں۔
اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی سفیر کو طلب کریں گی۔ انہوں نے بھی اسرائیل سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
نیدر لینڈز کے وزیرِ اعظم نے بھی اسرائیلی سفیر کی طلبی کا اعلان کیا ہے اور اسے 'ناقابل قبول سلوک' قرار دیا ہے۔
کینیڈا کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان 'پریشان کن' تصاویر پر اسرائیلی سفیر کی طلبی ہونی چاہیے۔
فن لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی سفیر سے اس معاملے پر وضاحت طلب کریں گے۔
جنوبی کوریا کے صدر نے کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو ان کے ملک میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی گرفتاری کے امکان پر غور کیا جائے گا۔
آسٹریا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سفیر کو اس پر اپنے مؤقف سے آگاہ کر دیا ہے۔
پولینڈ کے وزیرِ خارجہ نے اہنے شہریوں کے لیے انصاف اور اسرائیلی حکام کے لیے سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
آئرلینڈ نے قافلے میں شریک اپنے شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے گرفتار ایکٹیوسٹس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل میں بھی بین گویر پر تنقید
اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیدون سعار نے بین گویر کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'اس شرم ناک مظاہرے کے ساتھ آپ نے جان بوجھ کر ہمارے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہے۔ نہیں، آپ اسرائیل کا چہرہ نہیں ہیں۔'
جواب میں قومی سلامتی کے وزیر بین گویر نے وزیرِ خارجہ پر 'دہشت گردی کے حامیوں کے سامنے جھکنے' کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 'سعار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اسرائیل اب قربانی کا بکرا نہیں ہے۔'
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے گرفتار ایکٹیوسٹس کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ نیتن یاہو نے بھی بین گویر کی اشتعال انگیز حرکتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ اسرائیل کی اقدار اور اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔'
تاہم بعض وزرا بین گویر کے حق میں بھی بیانات دیتے نظر آئے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ یہ انفرادی واقعہ نہیں ہے۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ نے بین گویر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جو غزہ کا محاصرہ توڑنے آتے ہیں، ان کے ساتھ یہ سلوک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'دہشت گردی کے حامیوں کا ٹھکانہ جیل ہے۔ لیکن ظاہر ہے ہم انہیں ان کے آبائی وطن واپس بھیج دیں گے۔'






