
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پیر کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران پاکستان میں بات چیت کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
اسماعیل بقائی نے یہ گفتگو پیر کو تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کی۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
ترجمان وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ایسی روش کبھی مثبت نتائج نہیں دے سکتی۔
'امریکہ نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی'
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے جنگ بندی کے آغاز ہی سے اس کی خلاف ورزی کی اور ہم نے پاکستانی ثالث کو بھی اس بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔
ترجمان کے مطابق امریکہ نے مؤقف اختیار کیا کہ لبنان میں جنگ بندی کسی معاہدے کا حصہ نہیں تھی۔ حالاں کہ ایران نے اس بارے میں پاکستانی ثالث کو وضاحت فراہم کی تھی۔
ان کے بقول امریکہ نے بحری ناکہ بندی کی اور ایک ایرانی جہاز پر حملہ کیا جو جنگ بندی اور بین الاقوامی قوانین دونوں کی خلاف ورزی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم پچھلے مذاکرات کے دوران بھی امریکہ کے حملوں کو نہیں بھلا سکتے۔ امریکہ نے دو مرتبہ مذاکرات کی خلاف ورزی کی، ایران پر حملے کیے، ایرانی شہریوں کو نشانہ بنایا اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 'امریکہ ایران پر الزام تراشی کا کھیل کھیل رہا ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری ہے جب کہ انہیں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ ہم امریکیوں سے سچ بولنے کی توقع نہیں کر سکتے وہ ہمیشہ ہم پر الزام لگاتے رہتے ہیں۔
ان کے بقول 'ایسا لگتا ہے کہ امریکہ مذاکرات اور امن کے لیے بالکل سنجیدہ نہیں ہے۔'
ایرانی وزارتِ خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکی صدر ٹرمپ اعلان کر چکے ہیں کہ ان کا وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکہ کی پیش کش قبول نہ کی تو وہ اس کے تمام بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر دے گا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ہم اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھیں گے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل نئی جارحیت شروع کرنا چاہتے ہیں تو ہماری مسلح افواج اس کے لیے تیار ہیں اور وہ اس کا مناسب جواب دیں گی۔
'افزودہ یورینیم ہماری سرزمین پر ہی رہے گا'
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے افزودہ یورینیم کے معاملے پر کہا کہ جوہری مادے کو ایران سے منتقل کرنے کا معاملہ مذاکرات میں شامل نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران واضح کر چکا ہے کہ وہ افزودہ یورینیم کو اپنی سرزمین پر ہی رکھے گا۔ ان کے بقول جب بات ایران کے قومی مفاد کے تحفظ کی ہو تو ہم کسی ڈیڈ لائن اور الٹی میٹم پر یقین نہیں رکھتے۔
اسماعیل بقائی کے بقول امریکہ غیر حقیقی اور غیر معقول مطالبات پر اصرار کر رہا ہے۔






