
اقوامِ متحدہ کے مہاجرین سے متعلق اداروں کا کہنا ہے کہ بحیرۂ انڈمان میں پناہ گزینوں کی ایک کشتی الٹنے سے 250 سے زیادہ افراد لاپتا ہو گئے ہیں جن میں بنگلہ دیشی شہری اور روہنگیا پناہ گزین بڑی تعداد میں شامل ہیں۔
کشتی بنگلہ دیش کے کاکسز بازار ضلع سے روانہ ہوئی تھی اور ملائیشیا کی طرف جا رہی تھی۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں کے مطابق گنجائش سے زیادہ افراد سوار ہونے، طوفانی ہوائیں اور بپھرا سمندر کشتی الٹنے کی وجہ بنیں۔
کشتی میں روہنگیا پناہ گزین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ روہنگیا پناہ گزین میانمار کی وہ مسلم اقلیت ہیں جو میانمار کی فوج کے مظالم کی وجہ سے بے گھر ہو کر مختلف ملکوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش میں 12 لاکھ کے قریب روہنگیا پناہ گزین موجود ہیں جن کی بڑی تعداد 2017 میں ہوئے پرتشدد واقعات کے بعد یہاں آباد ہوئی ہے۔
روہنگیا پناہ گزین اکثر بہتر مستقبل اور روزگار کے لیے خطرناک سمندری سفر کر کے بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
'حادثے سے پہلے 30 افراد دم گھٹنے سے مر چکے تھے'
حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ کشتی میں 300 کے قریب افراد سوار تھے جن میں خواتین، بچے، کشتی کا عملہ اور مشتبہ انسانی اسمگلر بھی موجود تھے۔
رفیق الاسلام نامی ایک مسافر نے بتایا کہ مسافر چار دن اور راتوں سے سمندر میں تھے اور ان میں سے اکثر کی حالت کافی خراب ہو چکی تھی۔ سیکیورٹی فورسز سے بچنے کے لیے انسانی اسمگلروں نے مسافروں کو کشتی میں سامان یا مچھلی رکھنے کی تنگ جگہ میں گھسایا ہوا تھا۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ 'وہاں بمشکل ہی آکسیجن مل پا رہی تھی۔ کم از کم 30 افراد کشتی ڈوبنے سے پہلے ہی دم گھٹنے سے ہلاک ہو چکے تھے۔ ہم سانس بھی نہیں لے پا رہے تھے۔'
جب کشتی الٹی تو سینکڑوں افراد کو کھلے سمندر میں پھینک دیا گیا۔ رفیق الاسلام کا اندازہ ہے کہ تقریباً 240 کے قریب افراد اس وقت بھی کشتی پر موجود تھے جن میں 20 خواتین اور کئی بچے شامل تھے اور ان میں سے چند ہی زندہ بچ سکے ہیں۔
رفیق الاسلام ان چند افراد میں شامل ہیں جنہیں ابتدائی طور پر سمندر سے زندہ ریسکیو کر لیا گیا۔ بنگلہ دیش کا ایک تیل بردار جہاز قریب سے گزر رہا تھا جس نے کئی افراد کو ریسکیو کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس خطرناک سفر کا آغاز چار اپریل کو ہوا تھا جب مسافر پہلے ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے بنگلہ دیشی ساحل سے میانمار کے قریب موجود ایک ٹرالر تک پہنچے۔ سیکیورٹی فورسز کی نظروں میں آنے سے بچنے کے لیے انہیں جھاڑیوں میں بھی چھپنا پڑا۔
یہ حادثہ روہنگیا پناہ گزینوں کی مایوسی اور ناامیدی کی کیفیت کو بھی ظاہر کرتا ہے جو بنگلہ دیشی کیمپوں میں انتہائی غربت اور خراب حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے اکثر وہ ملائیشیا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا پہنچنے کے لیے خطرناک سفر کرتے ہیں۔






