امریکی فوج کا ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی کا اعلان، کوئی فوجی جہاز آبنائے ہرمز کے قریب آیا تو سختی سے نمٹیں گے: ایران

09:4613/04/2026, پیر
جنرل13/04/2026, پیر
ویب ڈیسک
فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ اور ایران کے اسلام آباد میں مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے بعد اب پھر سے تند و تیز بیانات اور کشیدگی میں اضافے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ امریکی فوج نے ایران کی تمام بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ ناکہ بندی کر کے ایرانی بندرگاہوں پر ہر قسم کی بحری ٹریفک کی آمد و رفت روک دے گی۔ یہ اقدام دونوں ملکوں کے درمیان نازک جنگ بندی کو خطرے میں بھی ڈال سکتا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ناکہ بندی امریکہ کے ایسٹرن ٹائم زون کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے سے شروع ہو جائے گی جب کہ ایران میں شام کے ساڑھے پانچ بجے کا وقت ہوگا۔

سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والے تمام ملکوں کے جہازوں پر بلاتفریق نافذ کی جائے گی۔ البتہ آبنائے ہرمز سے گزر کر کسی اور ملک کی بندرگاہ آنے جانے والے جہاز اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خبردار کیا ہے کہ جو بھی جہاز ایران کو ٹیکس دے کر آبنائے ہرمز سے گزرے گا، امریکی فورسز اسے روکیں گی۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ 'غیر قانونی ٹول دینے والے کسی بھی جہاز کو گہرے پانیوں تک بحفاظت راستہ نہیں دیا جائے گا۔ اگر کوئی ایرانی ہم پر یا کسی پرامن جہاز پر فائر کرے گا تو اسے جہنم میں پہنچا دیں گے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو تباہ کرنا شروع کریں گی۔

ان بیانات کے بعد تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے اور پیر کو سات فیصد اضافے سے خام تیل کی قیمتیں پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر آ گئی ہیں۔

کوئی سبق نہیں سیکھا گیا: ایران

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی فوجی جہاز آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی کوشش کرے گا تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

دونوں جانب سے سخت بیانات اور اقدامات کے اعلانات کے بعد 15 دن کی جنگ بندی بھی خدشات کا شکار ہے۔

اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے درمیان ہفتے کو ہونے والے اہم اعلیٰ سطحی مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے تھے۔ گو کہ مذاکرات کے بارے میں باضابطہ یا سرکاری طور پر بہت ہم ہی اطلاعات منظر عام پر آئی ہیں تاہم ایک امریکی عہدے دار کے مطابق ایران نے یورینیم افزودگی مکمل طور پر ختم کرنے اور افزودگی کی تمام تنصیبات کو ختم کرنے کے امریکی مطالبے کو مسترد کیا۔

عہدے دار کے مطابق ایران نے حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کی فنڈنگ روکنے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کے مطالبات بھی مسترد کر دیے۔

جب کہ دوسری جانب ایرانی میڈیا کا بھی کہنا ہے کہ مذاکرات میں کئی مسائل پر اتفاق ہو گیا تھا لیکن آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام وہ مرکزی نکات تھے جن پر ڈیڈلاک برقرار رہا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ 'جب ہم اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے تو ہمیں زیادہ سے زیادہ مطالبات، بدلتے ہوئے اہداف اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔'

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ نیک نیتی نیک نیتی کو جنم دیتی ہے اور دشمنی سے دشمنی ہی فروغ پاتی ہے۔


##ایران
##امریکہ
##مذاکرات