
ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے جمعرات کو اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ تہران اپنی نیوکلیئر اور میزائل صلاحیتوں کا قومی اثاثے کے طور پر تحفظ کرے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد سے منظرِ عام پر تو نہیں آئے اور ان کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات بھی رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔ تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کے بیانات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان کا حالیہ تحریری بیان ایران کے سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ملک کے اندر اور باہر موجود نو کروڑ باوقار اور قابلِ فخر ایرانی، ایران کی تمام شناختی، روحانی، انسانی، سائنسی، صنعتی اور تکنیکی صلاحیتوں کو قومی اثاثہ سمجھتے ہیں۔ چاہے وہ نینو ٹیکنالوجی اور بایوٹیکنالوجی ہوں یا جوہری اور میزائل صلاحیتیں۔ اور وہ ان کی اسی طرح حفاظت کریں گے جیسے وہ ملک کے پانیوں، زمین اور فضائی حدود کی حفاظت کرتے ہیں۔'

رہبرِ اعلیٰ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ؛ہم اور خلیجِ عرب و فارس میں ہمارے ہمسایوں کا مقدر ایک سا ہے۔ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھ کر لالچ کی بنیاد پر فساد برپا کرنے والے غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانیوں کی تہہ کے سوا کہیں اور کہیں نہیں ہے۔'
ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا یہ پیغام ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب یہ اطلاعات آئی ہیں کہ امریکی انتظامیہ ممکنہ طور پر ایران پر مزید حملوں یا آپشنز کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور دوسری جانب امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی بھی رپورٹس آئی ہیں۔







