برکس کے وزرائے خارجہ اجلاس میں ایران اور متحدہ عرب امارات کی تلخ کلامی، عباس عراقچی نے کیا کہا؟

10:2515/05/2026, Cuma
جنرل15/05/2026, Cuma
ویب ڈیسک
برکس اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ کی ایک فوٹو
برکس اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ کی ایک فوٹو

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں جاری برکس تنظیم کے اجلاس میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔

یہ واقعہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب حال ہی میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران جنگ کے دوران بنیامین نیتن یاہو نے امارات کا خفیہ دورہ کیا اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ملاقات بھی کی۔

متحدہ عرب امارات نے گزشتہ روز اسرائیل کے اس دعوے کی تردید کی تھی۔ تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ایرانی سیکیورٹی ایجنسیوں نے یہ بات پہلے ہی ایرانی قیادت کو بتائی تھی۔ عراقچی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر تفرقہ پھیلانے والوں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔

بعد ازاں ایرانی وزیرِ خارجہ نے نئی دہلی میں برکس تنظیم کے اجلاس کے دوران بھی اس معاملے کو اٹھایا جس پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی سخت جواب دیا گیا۔

عباس عراقچی نے برکس اجلاس میں دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ایران غیر قانونی توسیع پسندی اور جنگجویانہ پالیسیوں کا شکار ہے۔ انہوں نے برکس پلس تنظیم کے رکن ممالک، جن میں برازیل، روس، انڈیا، چائنہ، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھیوپیا، متحدہ عرب امارات، ایران اور انڈونیشیا شامل ہیں، پر زور دیا کہ وہ مغربی بالادستی اور اس استثنیٰ کے احساس کے خلاف مزاحمت کریں جسے امریکہ اپنا حق سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ایران برکس کے رکن ممالک اور عالمی برادری کے تمام ذمے دار ارکان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی واضح مذمت کریں۔

اس کے بعد متحدہ عرب امارات کای جانب سے بھی اس معاملے پر جواب دیا گیا جس کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں کہ اماراتی نمائندے کی جانب سے کیا کہا گیا۔

تاہم ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امارات کے جواب کے بعد عباس عراقچی نے کہا کہ 'میں نے اتحاد برقرار رکھنے کی خاطر (برکس) میں دیے گئے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امارات میرے ملک کے خلاف کی گئی جارحیت میں براہِ راست شامل رہا ہے۔'

ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے مزید کہا کہ 'جب حملے شروع ہوئے تو امارات نے مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا۔'

ایرانی میڈیا نے اماراتی نمائندے کا بیان جاری نہیں کیا کہ ان کی جانب سے کیا کہا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کو نہ امریکی فوجی اڈے سیکیورٹی فراہم کر سکتے ہیں نہ ہی اس کا اسرائیل سے اتحاد۔ انہوں نے کہا کہ امارات کو ایران سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ 'ہمیں ایک ساتھ امن سے رہنا چاہیے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ پرامن تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہو۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں میں سب سے زیادہ حملے متحدہ عرب امارات پر کیے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل پر بھی اتنے میزائل اور ڈرونز فائر نہیں کیے جتنے امارات پر کیے ہیں۔

حال ہی میں ایک امریکی اخبار کی جانب سے یہ رپورٹ بھی سامنے آئی کہ متحدہ عرب امارات نے بھی خفیہ طور پر ایران پر حملے کیے تھے۔

#عباس عراقچی
#ایران
#متحدہ عرب امارات
#برکس
#نئی دہلی