
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی پاکستان اور عمان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پیر کو روس پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی وفد کی واپسی کے بعد اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات نرم کر دیے گئے ہیں اور معمولاتِ زندگی بحال ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد میں پیر کو بند راستے، سڑکیں، اسکول و دفاتر کھل گئے ہیں جب کہ میٹرو بس سروس اور ٹرانسپورٹ بھی بحال کر دی گئی ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں معمولاتِ زندگی بحال ہو گئے ہیں۔
'دورۂ اسلام آباد مفید رہا'
ادھر ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے دورۂ پاکستان کو مفید قرار دیتے ہوئے اسلام آباد کا شکریہ ادا کیا۔ عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی برادرانہ کوششوں کی قدر کرتے ہیں۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کے خلاف جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک کے حوالے سے ایران کا مؤقف واضح کیا ہے۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ واقعی سفارت کاری میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔
اسلام آباد کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ایرانی وفد عمان پہنچا جہاں عباس عراقچی کی عمانی حکام سے ملاقات ہوئی۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے عمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ علاقائی اور باہمی امور پر اہم گفتگو ہوئی۔
عمان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اب عراقچی پیر کو روس پہنچے ہیں جہاں ان کی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات متوقع ہے۔
ایران کے روس میں سفیر کاظم جلیلی کا کہنا ہے کہ 'ایران اور روس ایک متحدہ محاذ کے طور پر موجود ہیں۔ دنیا کی مطلق العنان قوتوں کی اس مہم میں جو آزاد اور انصاف کے متلاشی ممالک کے خلاف ہے اور اُن ممالک کے بھی خلاف ہے جو یکطرفہ نظام اور مغربی بالادستی سے پاک دنیا کے خواہاں ہیں۔
ایران اب فون پر بات کر سکتا ہے: ٹرمپ
جب کہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مذاکراتی وفد کا دورۂ پاکستان منسوخ کرنے کے بعد کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو وہ فون پر بات کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کو اپنے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی اسلام آباد روانگی کی منسوخی کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آ جائیں یا پھر ہمیں کال کر سکتے ہیں۔ یہاں ٹیلی فون موجود ہے، ہمارے پاس محفوظ لائنز موجود ہیں۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'وہ جانتے ہیں کہ معاہدے میں کیا ہونا ہے۔ یہ بہت آسان ہے۔ وہ نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہیں کر سکتے، بصورتِ دیگر ملاقات کی کوئی وجہ نہیں ہے۔'
ٹرمپ پر جنگ کے خاتمے کے لیے اندرونی دباؤ
امریکی نیوز ویب سائٹ 'ایگزیوس' نے اتوار کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کو نئی تجاویز بھجوائی ہیں جب کہ جوہری مذاکرات کو اگلے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان تجاویز سے متعلق تبصرے کی درخواست پر فی الحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
تاہم ٹرمپ کو داخلی طور پر ایران جنگ کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے اور امریکی عوام میں ان کی حمایت میں بھی تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔
ٹرمپ کو اس غیر مقبول جنگ کے جلد خاتمے کے لیے اندرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایرانی رہنماؤں آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کی وجہ سے مذاکرات میں مضبوط پوزیشن پر دکھائی دیتے ہیں۔






