اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کے باوجود حملے جاری، مجتبیٰ خامنہ ای کی ایرانی قیادت میں اختلافات کے دعوؤں کی تردید

09:4624/04/2026, جمعہ
جنرل24/04/2026, جمعہ
ویب ڈیسک
اسرائیل لبنان میں بھی غزہ جیسی تباہی پھیلا رہا ہے اور درجنوں عمارتوں کو ملبے کے ڈھیر میں بدل چکا ہے۔
اسرائیل لبنان میں بھی غزہ جیسی تباہی پھیلا رہا ہے اور درجنوں عمارتوں کو ملبے کے ڈھیر میں بدل چکا ہے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع ہو گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کرائی گئی ملاقات کے بعد دونوں ملکوں میں تین ہفتوں کی مزید جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔

تاہم سیز فائر کے باوجود اسرائیل کے لبنان میں حملے جاری ہیں جن کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے حزب اللہ کے حملوں کی جواب میں حملے کیے ہیں اور تین شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے جب کہ حملوں میں استعمال ہونے والے انفراسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کے جنگجو جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجیوں اور اسرائیل پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم یاد رہے کہ رواں ہفتے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں ایک لبنانی صحافی امل خلیل، لبنان کے ایک سینیئر فوجی عہدے دار اور امل خلیل کے اخبار کے مالک بھی شامل ہیں۔
صحافی امل خلیل کے جنازے کا منظر

واضح رہے کہ اسرائیل اور لبنان کی حکومت کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے جنگ بندی مذاکرات میں حزب اللہ کے نمائندے شامل نہیں تھے۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے انہیں ایران کے ساتھ امن معاہدے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور وہ 'ہمیشہ قائم رہنے والا' معاہدہ چاہتے ہیں۔

جمعرات کو اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ امریکی نیوی کو حکم دے دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو دیکھتے ہی تباہ کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اس جنگ بندی کے دوران جو ہتھیار بنائے ہیں امریکہ انہیں بھی صرف ایک دن میں نیست و نابود کر سکتا ہے۔

تاہم امریکی صدر کے تمام تر دعوؤں کے باوجود آبنائے ہرمز کا مؤثر کنٹرول ایران کے پاس ہے جہاں اب جہازوں کی آمد و رفت معطل ہے۔ ایرانی فورسز نے دو بڑی بحری کارگو جہازوں کو اپنے قبضے میں لے کر یہ باور کرایا ہے کہ وہ اب بھی اس آبی گزرگاہ کو کنٹرول کر رہا ہے اور دنیا بھر میں تیل کی فراہمی کو بند رکھ سکتا ہے۔

جمعے کو خام تیل کی قیمتوں میں بھی تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی اتحاد

ایران کی جانب سے بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کے لیے ایک ساتھ کئی چھوٹی کشتیوں کا استعمال کیا گیا جس سے ٹرمپ کے ان دعوؤں پر سوال کھڑے ہوئے ہیں کہ انہوں نے ایران کی بحری قوت کو تباہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں ٹرمپ کے ان دعووں کو مسترد کیا گیا ہے کہ ایرانی قیادت میں اختلافات موجود ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایران کے اتحاد اور سیکیورٹی کو کمزور کرنے کے لیے 'دشمن کا میڈیا آپریشن' ہے۔

ایکس پر جاری پوسٹ میں مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 'اتحاد مزید مضبوط اور طاقت ور ہوگا اور دشمن کمزور اور مزید ہزیمت اٹھائے گا۔

یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران پر پہلے حملے کے بعد سے خود منظرِ عام پر نہیں آئے البتہ ان کے بیانات آتے رہتے ہیں۔

#اسرائیل
#لبنان
#جنگ بندی
#حزب اللہ
#مجتبی خامنہ ای
#آبنائے ہرمز
#امریکہ
#اسرائیلی فوج
#جنگ بندی توسیع
#امن معاہدہ
#ایرانی قیادت