انڈیا کے آٹھ طیارے گرائے، انہوں نے ابھی ہماری جنگی صلاحیت کا صرف 10, 15 فیصد مظاہرہ دیکھا ہے: افواجِ پاکستان کے افسران کی مشترکہ پریس کانفرنس

14:597/05/2026, Perşembe
جنرل7/05/2026, Perşembe
ویب ڈیسک
پاکستان کی بحری، بری و فضائی افواج کے اعلیٰ افسران نے پریس کانفرنس کی ہے۔
پاکستان کی بحری، بری و فضائی افواج کے اعلیٰ افسران نے پریس کانفرنس کی ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان گزشتہ سال مئی میں ہونے والی جھڑپوں کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے اعلیٰ حکام نے پریس کانفرنس کی اور اس جنگ سمیت افغانستان، کشمیر اور کئی دیگر معاملات پر بات کی۔

افواجِ پاکستان کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے انڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انڈیا اپنے لوگوں پر دہشت گردی کرواتا ہے اور اس کا الزام دوسروں پرعائد کرتا ہے۔ انڈیا کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کا بیانیہ اب مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ معرکۂ حق کے دوران دنیا نے دیکھ لیا کہ ذمے دارانہ کردار کون ادا کر رہا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گردوں نے سیاحوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد انڈیا اور پاکستان میں شدید جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں ایک دوسرے پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے گئے۔ انڈیا نے اس چار روزہ کارروائی کو 'آپریشن سندور' کا نام دیا تھا جب کہ پاکستان میں اسے معرکۂ حق اور آپریشن 'بنیان مرصوص' کے نام دیے گئے ہیں۔

'انڈیا جو کرنا چاہے کر لے، بھرپور جواب دیں گے'

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افواج پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔ ہم پہلے بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا خود سب سے بڑا دہشت گرد ہے، وہ بتائے کہ اس نے کس دہشت گردی کے کیمپ کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے لیکن پاکستان نے جو سوالات اٹھائے تھے وہ آج بھی عالمی برادری، پاکستانی عوام اور خود بھارتی عوام کے سامنے جوں کے توں موجود ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بین الاقوامی برادری آج بھی یہ سوال کر رہی ہے کہ پہلگام واقعے کے پیچھے کون تھا اور اس کا مقصد کیا تھا۔ پاکستانی عوام کے ساتھ انڈیا کے باشعور حلقے بھی ان سوالوں کے جواب مانگ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا بار بار پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگاتا رہا۔ لیکن معرکہ حق کے بعد یہ ڈراما ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے۔ دنیا اب خود دیکھ رہی ہے کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا کردار کون ادا کر رہا ہے۔

ان کے بقول پاکستان اور اس کی قیادت خطے میں امن کے قیام کی کوششیں کر رہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی و ملٹری سفارت کاری آج دنیا دیکھ رہی ہے۔

'انڈیا نے ہماری عسکری قوت کا بہت کم مظاہرہ دیکھا'

پاکستانی افواج کی عسکری قوت سے متعلق دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'معرکہ حق میں جو کچھ انڈیا نے دیکھا وہ ہماری طاقت کا صرف 10 سے 15 فیصد تھا۔ ہم تب بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، کسی کو شک ہے تو جان لیں کہ اپنی طاقت کی ایک قسط ہم نے دکھائی ہے۔ اس بار 14اگست پر عظیم الشان پریڈ ہوگی، اپنی عسکری صلاحیتوں کی چھوٹی سی جھلک عوام کو دکھائیں گے۔'

ڈی جی آئی ایس پی آر کے بقول 'انڈیا کے لیے واضح اور دو ٹوک پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کرلیں۔ چاہے وہ روایتی ہو یا غیر روایتی۔ ہم یہیں کھڑے ہیں۔ بھرپور طاقت سے جواب دیں گے۔'

انہوں نے کہا کہ 'ہندوستانی بچے بھی جانتے ہیں کہ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی. یہ الگ بات ہے کہ انڈیا اسے تسلیم نہیں کرتا۔'

معرکہ حق میں انڈیا کے ’آٹھ جہاز گرائے: ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف

ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ پریس کانفرنس میں پاکستانی فوج کے ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف طارق غازی نے دعویٰ کیا کہ معرکہ حق میں انڈیا کے چار رافیل طیاروں سمیت آٹھ طیارے گرائے گئے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا اسکور آٹھ - صفر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ایس یو 30، ایک مگ 29، ایک میراج طیارہ اور ایک انتہائی مہنگا ملٹی رول ڈرون مار گرایا گیا۔

ان کے بقول پاک فضائیہ نے معرکہ حق میں پیشہ ورانہ مہارت اور جدید جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

#پاکستان
#انڈیا
#معرکہ حق
#افواج پاکستان
#پریس کانفرنس
#آپریشن سندور
#بنیان مرصوص