
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں چند ہی گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔ اس دوران ایک طرف سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے تو وہیں ایرانی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بجلی گھروں کی حفاظت کے لیے ان کے گرد انسانی زنجیریں بنائیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سپریم کونسل برائے نوجوانان و اطفال کے سیکریٹری علی رضا رحیمی نے اپنے بیان میں کہا کہ 'بجلی گھر ہمارے قومی اثاثے اور سرمایہ ہیں جو کسی بھی سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کر ایران کے مستقبل اور نوجوانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔'
ایران ماضی میں بھی مغربی ممالک کے ساتھ کشیدگی کے دوران اپنی جوہری تنصیبات کے گرد انسانی زنجیریں تشکیل دے چکا ہے۔
منگل کو ایران میں اسرائیلی و امریکی حملوں سے 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ ایران نے بھی اسرائیل اور خلیجی ملکوں میں جوابی حملے کیے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے منگل کی شام آٹھ بجے تک کی ڈیڈ لائن دی ہے اور نہ ماننے کی صورت میں ایران کے تمام بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

اسرائیل کا ایرانی ریلوے پر حملوں کا عندیہ
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی فارسی میں بیان جاری کر کے ایرانی عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ آج پورا دن ٹرینوں میں سفر نہ کریں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایران کے ریلوے نیٹ ورک کو نشانہ بنانے والا ہے۔
اسرائیل فوج نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ 'ٹرین میں موجودگی آپ کی جان خطرے میں ڈال سکتی ہے۔'
جنگی جرائم کے الزامات کی کوئی پروا نہیں: ٹرمپ
امریکی صدر کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے فیصلے کی عالمی سطح پر مخالفت کی جا رہی ہے اور انہیں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ یہ اقدام جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کے مترادف ہوگا۔
فرانس نے بھی دیگر بین الاقوامی قوتوں کی طرح تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور جنگ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی۔
فرانس کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس اقدام نے بلاشبہ کشیدگی کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا اور ایران بھی جوابی کارروائیاں کرے گا جس سے پورا خطہ اور عالمی معیشت ایک گرداب میں پھنس جائے گی۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے بقول یہ صورتِ حال انتہائی تشویش ناک اور ہمارے مفادات کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگی۔
تاہم ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ انہیں جنگی جرائم کے الزامات کی کوئی پروا نہیں اور وہ ڈیڈ لائن کے خاتمے پر ایران کے انفراسٹرکچر کو تباہ کریں گے۔
'جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششیں انتہائی اہم مرحلے میں داخل'
ٹرمپ کی ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششوں میں بھی تیزی آ رہی ہے۔ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی و اسرائیل کی جنگ روکنے کے لیے اسلام آباد کی مثبت اور تعمیری کوششیں اب انتہائی اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
ان کے بقول مزید تفصیلات کے لیے ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ ایران نے 45 دن کی جنگ بندی اور عارضی جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایران نے جنگ بندی معاہدے کے لیے اپنی 10 شرائط پیش کی ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کی ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے جو پاکستان کی ثالثی میں پیش کی گئی تھی۔ ان تجاویز میں فوری جنگ بندی، آبنائے ہرمز کھولنے اور اس کے بعد 15 سے 20 دن کے اندر وسیع تر امن معاہدے پر مذاکرات شامل تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے 'ارنا' کے مطابق ایران کی جانب سے دیے گئے جواب میں 10 نکات شامل ہیں جن میں خطے میں تنازعات کے خاتمے کی گارنٹی، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے لیے ایک طریقہ کار تشکیل دینے، پابندیوں کے خاتمے اور تعمیرِ نو جیسے امور شامل ہیں۔






