
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کے تحت اسلام آباد نے کتنے فوجی اور جہاز ریاض بھجوائے ہیں؟ اس بارے میں حال ہی میں کچھ تفصیلات منظرِ عام پر آئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران باہمی دفاعی معاہدے کے تحت اپنے آٹھ ہزار فوجی اہلکاروں کو سعودی عرب میں تعینات کیا ہے۔ اس کے علاوہ لڑاکا طیاروں کا ایک اسکواڈرن اور فضائی دفاعی نظام بھی ریاض پہنچایا گیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس تعیناتی کی تفصیلات پہلی بار سامنے آئی ہیں جن کی تصدیق تین سیکیورٹی حکام اور دو حکومتی ذرائع نے کی۔ ان ذرائع کے مطابق یہ ایک مکمل جنگی صلاحیت رکھنے والی فورس ہے جس کا مقصد سعودی عرب پر مزید حملوں کی صورت میں اس کی عسکری معاونت کرنا ہے۔
پاکستانی فوج، دفتر خارجہ اور سعودی حکومتی میڈیا نے اس تعیناتی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
واضح رہے کہ واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے اس باہمی دفاعی معاہدے کی مکمل شرائط سامنے نہیں آئی ہیں۔ تاہم دونوں ممالک یہ واضح کر چکے ہیں کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس صورت میں دونوں ایک دوسرے کے دفاع کے پابند ہوں گے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف یہ عندیہ بھی دے چکے ہیں کہ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب پاکستان کے جوہری تحفظ کے دائرے میں بھی آتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تقریباً 16 طیاروں پر مشتمل ایک مکمل اسکواڈرن سعودی عرب بھیجا ہے جن میں زیادہ تر چین کے تعاون سے تیار کردہ جے ایف-17 لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ یہ طیارے اپریل کے آغاز میں سعودی عرب پہنچائے گئے تھے۔ دو سیکیورٹی حکام کے مطابق پاکستان نے ڈرونز کے دو اسکواڈرن بھی روانہ کیے ہیں۔
پانچوں ذرائع کے مطابق اس تعیناتی میں تقریباً آٹھ ہزار پاکستانی فوجی اہلکار شامل ہیں جب کہ ضرورت پڑنے پر مزید دستے بھیجنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چین کا تیار کردہ HQ-9 فضائی دفاعی نظام بھی سعودی عرب منتقل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نظام کو پاکستانی اہلکار آپریٹ کر رہے ہیں جب کہ اخراجات سعودی عرب برداشت کر رہا ہے۔
پاکستانی فوجی سعودی عرب میں کیا کریں گے؟
دو سیکیورٹی حکام نے کہا کہ ایران تنازع کے دوران تعینات پاکستانی فوجی اور فضائیہ کے اہلکار بنیادی طور پر تربیتی اور مشاورتی کردار ادا کریں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ہزاروں پاکستانی فوجی سعودی عرب میں جنگی کردار کے ساتھ مختلف معاہدوں کے تحت تعینات رہے ہیں۔ یہ آٹھ ہزار فوجی ان پہلے سے موجود فوجیوں کے علاوہ ہیں۔
ایک حکومتی ذریعے کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ضرورت پڑنے پر پاکستان اپنے 80 ہزار تک فوجی سعودی عرب بھیج سکتا ہے۔ تاکہ سعودی افواج کے ساتھ مل کر سرحدوں کا دفاع کیا جا سکے۔
دو سیکیورٹی حکام نے یہ بھی بتایا کہ معاہدے میں پاکستانی جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ تاہم رائٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ ابھی کوئی جنگی بحری جہاز سعودی عرب پہنچے ہیں یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق لڑاکا طیاروں، فضائی دفاعی نظام اور ہزاروں فوجیوں پر مشتمل یہ تعیناتی صرف علامتی یا مشاورتی مشن سے کہیں زیادہ بڑی اور مؤثر عسکری موجودگی کی عکاسی کرتی ہے۔
واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو عسکری معاونت، تربیت اور مشاورتی خدمات فراہم کرتا رہا ہے جب کہ ریاض نے بھی مختلف معاشی بحرانوں کے دوران پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔
رائٹرز اس سے قبل رپورٹ کر چکا ہے کہ ایران کے حملوں میں سعودی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے اور ایک سعودی شہری کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کو لڑاکا طیارے فراہم کیے تھے۔ کیونکہ خدشہ تھا کہ سعودی عرب سخت ردعمل دے کر تنازع کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔
یہ تمام پیش رفت اس سے پہلے کی ہے جب پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا۔ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی میں بھی کردار ادا کیا جو گزشتہ چھ ہفتوں سے برقرار ہے۔ اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان واحد براہِ راست مذاکرات بھی اسلام آباد میں ہوئے ہیں۔
رائٹرز نے بعد ازاں یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب نے جنگ کے دوران ایران پر متعدد غیر اعلانیہ حملے کیے تھے جو سعودی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں تھے۔






