
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بدھ کے روز بھی ایران امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کیے گئے انتظامات برقرار ہیں گو کہ دونوں فریقین کی جانب سے واضح اشارے ملے ہیں کہ وہ فی الحال اسلام آباد نہیں آ رہے۔
ایران اپنے اس مؤقف پر برقرار ہے کہ وہ امریکی ناکہ بندی ختم ہونے تک یا دھمکیوں کے سائے تلے مذاکرات نہیں کرے گا۔ منگل کو جب ایران کی جانب سے کوئی لچک نہیں دکھائی گئی تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اپنا دورۂ پاکستان منسوخ کر دیا۔
تاہم اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ وہ ایران میں جنگ بندی کی مدت میں پاکستان کی درخواست پر توسیع کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اس بار جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کی ہے تاہم ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اس تمام تر پیش رفت کے بعد اب ایک بار پھر سخت بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ایران کی جانب سے بھی کسی ممکنہ حملے کی صورت میں سخت جوابی ردعمل کی تنبیہ کی گئی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مطابق ٹرمپ ایک اور حملے کے لیے وقت خرید رہے ہیں۔
ادھر ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج متحرک ہیں اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں جواب دیں گی۔ خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر کے ترجمان کے مطابق ہماری قابل اور طاقت ور افواج ایران کے خلاف جارحیت یا کسی بھی کارروائی کی صورت میں پہلے سے طے شدہ اہداف پر فوری اور طاقتور حملہ کرنے کے لیے طویل عرصے سے 100 فیصد تیار ہیں۔
تاہم دوسری جانب اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے انتظامات بدستور برقرار ہیں۔ شہر کے کچھ حصے اب بھی بند ہیں اور سیکیورٹی موجود ہے۔ لیکن فی الحال اس ہفتے مذاکرات ہونے کی امیدیں معدوم ہوتی نظر آ رہی ہیں۔






