
ایران نے اپنے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج فورس کے سربراہ کی ہلاکت کے جواب میں بدھ کو اسرائیل پر میزائلوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے بڑی تعداد میں حملے کیے ہیں۔ ایران کے کچھ میزائل اور بم اسرائیل میں گرنے سے جانی نقصان اور تباہی بھی ہوئی ہے۔

ایرانی حکومت نے علی لاریجانی کی موت کی بھی تصدیق کر دی ہے۔ علی لاریجانی آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد نشانہ بننے والے اہم ترین ایرانی رہنما ہیں۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل، جس کے علی لاریجانی سربراہ تھے، نے کہا ہے کہ لاریجانی کے بیٹے اور نائب علی رضا بیات بھی پیر کی رات اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔
دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل بھی ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بدھ کو ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر بھی ایک میزائل گرا تاہم اس سے کوئی جانی نقصان یا تباہی نہیں ہوئی۔
امریکہ کا ایران کے ساحلی علاقوں پر بنکر بسٹر بموں سے حملہ
امریکی فوج نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے اس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی ساحلی پٹی انتہائی طاقت ور بنکر بسٹر بم گرائے ہیں کیوں کہ ایرانی اینٹی شپ میزائل بین الاقوامی شپنگ کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 5000 پونڈ وزنی بموں سے ایران کی میزائل سائٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

'ایران کے نئے سپریم لیڈر نے جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی'
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسے ایران کے اعلیٰ عہدے دار نے بتایا ہے کہ نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے 'امریکہ کے ساتھ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی لانے' سے متعلق ایران کی وزارتِ خارجہ کو پیش کی گئی تجاویز مسترد کر دی ہیں۔
عہدے دار کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے خارجہ پالیسی سے متعلق اپنے پہلے اجلاس میں شرکت کی اور کہا کہ 'یہ امن کے لیے مناسب وقت نہیں ہے جب تک اسرائیل اور امریکہ کو گھٹنوں پر نہ لے آیا جائے، وہ اپنی شکست تسلیم کریں اور ہرجانہ ادا کریں۔'






