
اسرائیل اور امریکہ کی ایران میں جاری جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایک طرف ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں مندی کا شکار ہو گئی ہیں تو دوسری جانب مختلف ملکوں میں ان اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند رہنے کی توقع ہے جہاں سے دنیا کو 20 فیصد کے قریب تیل سپلائی ہوتا ہے جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
امریکی کروڈ کی قیمت میں 20 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جو جولائی 2022 کے بعد سب سے زیادہ قیمت ہے۔ برینٹ آئل کی قیمت 17 فیصد اضافے سے 108.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ برینٹ آئل کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے بھی 28 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ جو پہلے ہی کئی دن سے مندی کے رجحان کا شکار تھی، پیر کو کریش کر گئی ہے۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں 11 ہزار پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے۔
جاپان کی اسٹاک مارکیٹ میں چھ فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ جنوبی کوریا میں 12 فیصد اور آسٹریلیا میں تقریباً چار فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

اثرات سے بچاؤ کے اقدامات
تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کی قبل از وقت چھٹیاں دے دی گئی ہیں جب کہ جنوبی کوریا میں قیمتوں پر حد مقرر کی گئی ہے۔
بنگلہ دیش اپنی توانائی کی 95 فیصد طلب امپورٹ سے پوری کرتا ہے۔ بنگلہ دیش نے توانائی کی کھپت میں کمی کے لیے ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں عید الفطر کی قبل از وقت چھٹیاں دے دی ہیں۔
بنگلہ دیش میں سرکاری اور نجی سکولوں میں پہلے ہی رمضان میں چھٹیاں ہیں۔ یعنی اب ملک کے تمام تعلیمی ادارے عید کی چھٹیوں تک بند رہیں گے۔

جنوبی کوریا نے 30 سال میں پہلی بار تیل کی قیمتوں پر حد مقرر کر دی ہے اور عوام 'پینک بائنگ' نہ کرنے سے خبردار کیا ہے۔ جنوبی کوریا اپنی ضرورت کا 70 فیصد تیل مشرقِ وسطیٰ سے خریدتا ہے۔
جاپان کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت آئل کے ملکی ذخائر سے تیل فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ جاپان 95 فیصد تیل مشرقِ وسطیٰ سے امپورٹ کرتا ہے اور اس کے پاس 354 دن کے ذخائر موجود ہیں۔
ویتنام کی حکومت تیل کی درآمدات پر عائد ٹیرف ختم کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ ٹیکسز میں کمی کر کے عوام کے لیے قیمتیں کم رکھی جا سکیں۔
پاکستان میں بھی پیر کو وزیرِ اعظم ہاؤس میں ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں کفایت شعاری کی پالیسی کا اعلان متوقع ہے۔
چائنہ نے تیل ایکسپورٹ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور شپمنٹس کے پرانے وعدے بھی منسوخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تیل پیدا کرنے والے ملک کیا کر رہے ہیں؟
قطر نے ایل این جی کی برآمدات روک دی ہیں۔
کویت اور عراق نے آبنائے ہرمز کی بندش کے پیشِ نظر تیل کی پیداوار کم کر دی ہے۔
متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی جلد تیل کی پیداوار روک سکتے ہیں کیوں کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل ایکسپورٹ نہیں ہو رہا اور اسٹوریج تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔






