
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی تو ہو گئی ہے لیکن اب ایک اور اہم مرحلہ ہے مذاکرات کا جن کے نتائج فیصلہ کریں گے کہ دو ہفتوں کی یہ جنگ بندی عارضی ثابت ہوگی یا مستقل امن کی طرف لے جائے گی۔
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے نمائندوں کو مذاکرات کے لیے 10 اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔ دونوں فریقین نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے کئی شرائط رکھی ہیں جن پر مذاکرات ہوں گے۔
ایران نے 10 نکاتی تجاویز پیش کی ہیں جنہیں ٹرمپ نے مذاکرات کے لیے 'ورکیبل' یعنی قابل غور قرار دیا ہے۔
ایران نے ان 10 نکاتی تجاویز میں مطالبہ کیا ہے کہ:
- خطے میں جنگوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ ایران اور اس کے تمام اتحادیوں جیسے عراق، لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ ہو۔
- آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مانا جائے اور یہاں محفوظ اور آزادانہ شپنگ کے لیے پروٹوکولز بنائے جائیں۔
- جنگ کے نقصانات کے ازالے اور ایران میں ری کنسٹرکشن کے لیے معاوضہ ادا کیا جائے۔
- ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ بھی 10 نکات میں شامل ہے۔
- اس کے علاوہ ایران کے فریزڈ ایسٹس اور فنڈز فوراً ریلیز کرنے اور مشرقِ وسطیٰ سے امریکی فوج کے انخلا کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
- ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا لیکن ایران کے پاس موجود یورینیم اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا جو ایک انتہائی اہم معاملہ ہے، اس پر ابھی ابہام ہے کہ اس کا کیا ہوگا۔
- ایران نے معاہدے کی اقوامِ متحدہ سے توثیق کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی 10 نکاتی تجاویز مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ان کے بقول امریکہ اور ایران کے درمیان زیادہ تر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور دو ہفتوں کی مہلت معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد دے گی۔






