امریکی فوج کو ایران کے جوہری اثاثے قبضے میں لینے کے لیے لازماً آپریشن کرنا چاہیے: ٹرمپ

10:496/05/2026, mercredi
جنرل6/05/2026, mercredi
ویب ڈیسک
فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوج کو ایران کے جوہری اثاثوں کو قبضے میں لینے کے لیے لازماً آپریشن کرنا چاہیے۔

صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'اب ہم یہ کرنے جا رہے ہیں۔ کیوں کہ ہمیں جوہری ہتھیار قبضے میں لینے کے لیے ایران میں اترنا پڑے گا۔'

ٹرمپ ممکنہ طور پر اس ایک ہزار کلو افزودہ یورینیم کے بارے میں بات کر رہے تھے جو اطلاعات کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات کے ملبے تلے دبی ہوئی ہے۔ امریکہ و اسرائیل نے گزشتہ سال جون میں ایران پر حملے کر کے اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو زیرِ زمین سرنگوں میں دبا دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کا اصرار تھا کہ واشنگٹن نے تہران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کے بقول 'ہم نے ان کی جوہری صلاحیت کو اڑا کر رکھ دیا ہے۔ وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو افزودہ یورینیم کے ذخائر نکالنے میں کئی ہفتوں کا وقت لگے گا اور امریکہ انہیں کھدائی کرنے نہیں دے گا کیوں کہ امریکی فوج مستقل نگرانی کر رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو ادراک ہے کہ ان کے پاس کوئی موقع نہیں ہے۔ لیکن وہ عوامی سطح پر اس کے مخالف دعوے کرتے ہیں۔ 'جب میں ان سے بات کرتا ہوں تو وہ اس کا اظہار کرتے ہیں، پھر وہ ٹی وی پر جا کر بتاتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔'

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران جلد معاہدہ کرنے کے لیے بے قرار ہے کیوں کہ ان کی فوج ختم ہو چکی ہے۔ ان کے بقول تہران کو اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں تاکہ مزید تنازع سے بچا جا سکے۔ ہم وہاں جا کر لوگوں کو مارنا نہیں چاہتے۔

ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران اب واشنگٹن کا پہلے سے کہیں زیادہ احترام کرتا ہے۔

امریکی صدر نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ایران کا معاشی نظام ناکام ہو جائے گا 'کیوں کہ ہم اسے ناکام بنا رہے ہیں۔'

ٹرمپ کے بقول 'ان کی کرنسی بے قدر ہو چکی۔ مہنگائی 150 فیصد پر پہنچ چکی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران پر ایسی سخت پابندیاں لگائی ہیں جو اس سے پہلے دنیا نے نہیں دیکھی تھیں جس کی وجہ سے ایران کا معاشی نظام سخت دباؤ میں ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ ناکام ہو جائے گا۔

#ڈونلڈ ٹرمپ
#ایران
#امریکہ
#جوہری پروگرام
#جوہری اثاثے
#افزودہ یورینیم