ترک کمپنی 'الپورٹ' نے استوائی گنی میں مالابو اور باتا بندرگاہوں کا کنٹرول سنبھال لیا

15:4720/04/2026, پیر
جنرل20/04/2026, پیر
ویب ڈیسک
باتا کی بندرگاہ کا ایک منظر
باتا کی بندرگاہ کا ایک منظر

ترکیہ کی افریقہ میں میری ٹائم اور لاجسٹک انفراسٹرکچر میں موجودگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ترکیہ کے البائراک گروپ کے بین الاقوامی بندرگاہی برانڈ 'الپورٹ' نے استوائی گنی کی دو بڑی بندرگاہوں مالابو اور باتا کا باضابطہ کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

تقریباً دو سال تک جاری رہنے والے مذاکرات اور باہمی دوروں کے بعد 13 نومبر 2024 کو ہونے والے معاہدے کے تحت منتقلی کا عمل مکمل کر لیا گیا جس کے بعد یکم اپریل 2026 سے بندرگاہی آپریشنز الپورٹ استوائی گنی کے حوالے کر دیے گئے۔

اعلیٰ سطحی تقریب میں بندرگاہ کے انتظام کی منتقلی

آپریشن کی منتقلی کے حوالے سے تقریب دارالحکومت مالابو میں منعقد ہوئی۔ صدارتی محل میں سرکاری استقبال کے بعد وزیر اعظم آفس میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں حکومتی شخصیات، ترک سفارتی مشن اور البائراک گروپ کے نمائندے شریک ہوئے۔

شرکا میں استوائی گنی کے وزیر اعظم مانوئیل اوسا زوئے زوا کے علاوہ وزیرِ ٹرانسپورٹ ہونارتو اویتا اوما اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ ترکیہ کی نمائندگی سفیر احمت ارگن نے کی جب کہ نائب سفیر عائشے ایسی بجاکچی کے علاوہ سفارت خانے کے دیگر عہدے داران بھی موجود تھے۔

البائراک گروپ کی جانب سے نائب چیئرمین نوری البائراک، بورڈ ممبر فاروق البائراک، الپورٹ پورٹس کے جنرل کوآرڈینیٹر مصطفیٰ لیونت ادالی اور استوائی گنی کے کنٹری مینیجر علی فوات اور دیگر عہدے داران بھی تقریب میں موجود تھے۔

معاہدے کے تحت مالابو اور باتا بندرگاہوں کے 25 سال تک آپریشن، جدیدکاری اور ترقی کی ذمے داری الپورٹ کے سپرد کی گئی ہے۔

خلیجِ گنی میں اسٹریٹجک اہمیت

باتا اور مالابو بندرگاہیں خلیج گنی کے ساحل پر واقع ہیں اور وسطی افریقہ کے لیے اہم تجارتی راستہ سمجھی جاتی ہیں۔ الپورٹ کا ہدف ان بندرگاہوں کے ذریعے چاروں طرف سے زمین سے گھرے ممالک جیسے چاڈ اور وسطی افریقی جمہوریہ تک رسائی کو بہتر بنانا اور علاقائی تجارتی راہداریوں کو فروغ دینا ہے۔
مالابو بندرگاہ کا ایک منظر

عالمی سطح پر ترکیہ کی بندرگاہی موجودگی میں اضافہ

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ترکیہ کے نجی شعبے کے ذریعے عالمی بندرگاہی نظام میں بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ البائراک گروپ نے اپنی بندرگاہی سرگرمیوں کا آغاز ترکیہ میں طرابزون بندرگاہ سے کیا تھا جس کے بعد اس نے عالمی سطح پر الپورٹ کے ذریعے وسعت حاصل کی۔

کمپنی نے 2014 میں موغادیشو بندرگاہ کے ساتھ افریقہ میں قدم رکھا، جس کے بعد گنی میں کوناکری، گیمبیا میں بنجول اور کانگو میں پوائنٹ نوائر بندرگاہوں کا انتظام سنبھالا۔

عالمی بینک کے مطابق کوناکری اور موغادیشو کی بندرگاہیں حالیہ برسوں میں اپنے ذیلی خطے کی بہترین کارکردگی دکھانے والی بندرگاہیں قرار دی گئی ہیں جو الپورٹ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

افریقہ سے باہر، الپورٹ باکو بندرگاہ بھی چلا رہا ہے جس سے یوریشین تجارتی راستوں میں اس کی موجودگی مضبوط ہو رہی ہے۔

کمپنی نے حال ہی میں ترکیہ ویلتھ فنڈ کے ساتھ السانکک پورٹ کے کنٹینر اور جنرل کارگو ٹرمینل کے آپریشن کے لیے بھی معاہدہ کیا ہے جس کا مقصد بندرگاہ کی جدیدکاری اور گنجائش میں اضافہ ہے۔
مالابو بندرگاہ

افریقہ میں کثیر شعبہ جاتی سرمایہ کاری

البائراک گروپ بندرگاہوں کے علاوہ افریقہ میں مختلف شعبوں میں بھی سرگرم ہے۔ جن میں صومالیہ میں تعمیرات، گنی میں زراعت و شہری خدمات، کانگو میں ویسٹ مینجمنٹ اور مراکش میں ٹیکسٹائل انڈسٹری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لیبیا، گیمبیا اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق ترکیہ کی افریقہ میں بڑھتی ہوئی بندرگاہی سرمایہ کاری نہ صرف تجارتی بلکہ اسٹریٹجک لحاظ سے بھی اہم ہے جو نئے تجارتی راستوں اور لاجسٹک نیٹ ورکس کو فروغ دے رہی ہے۔

مالابو اور باتا بندرگاہوں کا الپورٹ کے حوالے کیا جانا ترکیہ کی افریقہ میں بڑھتی ہوئی بندرگاہی اور لاجسٹک حکمتِ عملی کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

#الپورٹ
#استوائی گنی
#مالابو
#باتا
#البائراک گروپ
#ترکیہ
#خلیج گنی
#بندرگاہیں
#بین الاقوامی تجارت