
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران پر طے شدہ 'شدید حملے' مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر جلد معاہدہ طے پانے کی نوید سنائی ہے۔ تاہم تہران کا کہنا ہے کہ فی الحال معاہدے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
جمعرات کو امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ آج رات ایران پر شدید ترین حملے کرے گا۔ تاہم گزشتہ رات انہوں نے حملے مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اختتام ہفتہ تک ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ مارچ سے ایران کے ساتھ جلد معاہدہ طے پانے کے دعوے کرتے آ رہے ہیں اور متعدد مرتبہ یہ بات کر چکے ہیں۔ بعض اوقات وہ ایک، دو دن میں معاہدے پر دستخط ہونے کی بات بھی کرتے رہے ہیں۔ تاہم اب تک اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ 'ہم نے ابھی ایران جنگ کا ایک بہت بہترین تصفیہ طے کیا ہے۔'
ان کے بقول 'اس پر بہت جلد دستخط ہو سکتے ہیں اور جیسے ہی دستخط ہوئے، آبنائے ہرمز باضابطہ طور پر فوراً کھول دی جائے گی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوں گے جو اس اختتام ہفتہ پر بھی ہو سکتی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے معاہدے کی منظوری دے دی ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ 'میں سمجھتا ہوں ان کا جواب ہاں میں ہے۔'
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ فی الحال معاہدے پر دستخط سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ معاہدے کے بڑے حصے پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے لیکن ایران اپنی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
ان کے بقول 'ہم ابھی کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے جس کا متعلقہ فیصلہ ساز باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔'
گزشتہ روز کی دھمکی اور ٹرمپ کی بڑھتی مشکلات
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو ایک بار پھر دھمکی دی تھی کہ وہ آج رات اس پر انتہائی شدید حملے کریں گے۔ ٹرمپ نے ایران کے خارگ جزیرے اور تیل و گیس کی تنصیبات پر قبضے کی بھی دھمکی دی تھی۔ خارگ پر ایران کی بیشتر تیل کی تنصیبات موجود ہیں۔
ایران جنگ کا معاملہ ٹرمپ کے لیے امریکہ میں سیاسی دردِ سر بنا ہوا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں امریکی عوام میں ان کی سیاسی حمایت میں مسلسل کمی آ رہی ہے وہ بھی ایسے موقع پر جب ملک میں اسی سال مڈٹرم انتخابات ہونے ہیں۔
ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کے بعض اراکین سرعام ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکی عوام میں اس جنگ کی غیر مقبولیت کا انہیں بھاری سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اور وہ کانگریس میں اکثریت کھو سکتے ہیں۔






