
امریکی ریاست فلوریڈا نے پیر کو مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے چیٹ باٹ چیٹ جی پی ٹی سے کئی قسم کے نقصانات ہو سکتے ہیں۔ کمپنی نے ممکنہ خطرات سے آگاہی کے باوجود ایک غیر محفوظ پروڈکٹ جاری کی۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ریاست فلوریڈا کے اٹارنی جنرل جیمز اُتھمائر کی جانب سے دائر مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ماس شوٹنگ کرنے والوں کی مدد کی۔ بعض صارفین کو خودکشی کی ترغیب دی، تنقیدی سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کیا اور بچوں میں لت لگنے میں بھی کردار ادا کیا۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ مبینہ نقصانات اوپن اے آئی کی مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے شعبے میں برتری حاصل کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’ان نقصانات کی طویل فہرست چیٹ باٹ بنانے والوں کی مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیتنے اور بھاری مالی فوائد حاصل کرنے کی خواہش سے جڑی ہوئی ہے۔‘
مقدمے میں اوپن اے آئی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے حفاظتی خدشات کے باوجود چیٹ جی پی ٹی کو عوام کے لیے جاری کرنے کی اجازت دی۔
یہ قانونی کارروائی اپریل میں شروع ہونے والی ایک فوجداری تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں استغاثہ نے گزشتہ سال فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں چیٹ جی پی ٹی کے مبینہ کردار کا جائزہ لیا تھا۔
حکام کے مطابق ملزم فینکس اکنر نے حملے کی منصوبہ بندی میں مدد کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا تھا۔ تاہم ان الزامات پر اوپن اے آئی کا مؤقف فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔






