
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف شروع کردہ جنگ کو اب تقریباً تین مہینے ہونے کو آئے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ کسی کروٹ بیٹھنے کا نام نہیں لے رہا۔
ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو پھر معاہدے کی امید ظاہر کرتے ہوئے ایران پر حملے ملتوی کرنے کا اعلان کیا تو وہیں تہران بھی اپنے مؤقف اور مطالبات پر ڈٹا ہوا ہے۔
ٹرمپ کا حملے ملتوی کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اپنے ایک پیغام میں کہا کہ امریکہ نے آج ایران پر حملے کرنے تھے لیکن انہوں نے متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب کے رہنماؤں کی درخواست پر ان حملوں کو روک دیا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں لکھا کہ ایران پر نئے حملے منگل کو کیے جانے تھے۔ مگر قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور اماراتی صدر محمد بن زید النہیان نے مجھ سے درخواست کی کہ یہ حملے روکے جائیں کیوں کہ مذاکرات کی سنجیدہ کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
ٹرمپ کے بقول میں نے حکام کو ہدایت کر دی ہے کہ ایران پر شیڈول حملے فی الحال روک دیں لیکن اگر قابل قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ کسی بھی لمحے ایران پر مکمل، بڑے پیمانے کے حملے کے لیے آگے بڑھنے کو تیار ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنا مؤقف دہرایا کہ معاہدے میں سب سے اہم چیز یہ شامل ہوگی کی ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔
مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار
ایران کی آبنائے ہرمز پر مضبوط گرفت اور امریکہ کی جانب سے تہران کی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہیں اور کوئی بھی فریق فی الحال لچک دکھانے پر آمادہ نہیں۔
امریکہ میں ایک طرف ایران پر حملوں کی مخالفت پائی جاتی ہے تو وہیں امریکہ و اسرائیل میں بعض حلقے حملے دوبارہ شروع کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں۔ بعض حکام کا ماننا ہے کہ حملے جاری رکھنے سے تہران پر دباؤ بڑھے گا جو اسے دوبارہ مذاکرات کی میز پر لائے گا۔ تاہم ایران کی طرف سے آنے والے بیانات میں بھی خبردار کیا گیا ہے کہ حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کم از کم 20 سال کے لیے روک دے اور اپنا سارا یورینیم امریکہ کے حوالے کرے۔
ایران کا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے جنگ کا خاتمہ ہو، اسے دوبارہ حملے نہ ہونے کی ضمانت دی جائے، جنگ کے نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز پر اس کے حق کو تسلیم کیا جائے تو وہ دیگر معاملات پر مذاکرات کرے گا۔ جب کہ امریکہ ایران کی ان شرائط کو مسترد کرتے ہوئے اپنی شرائط رکھ چکا ہے جنہیں ایران ماننے پر آمادہ نہیں۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حالیہ بیان کے مطابق تہران نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنا بیان ثالث یعنی پاکستان کو بھجوا دیا ہے۔ ان کے بقول امریکہ کے مطالبات غیر حقیقی ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے جنگ کے مکمل خاتمے کی کوئی گارنٹی نہیں دی گئی ہے۔
ایران اپنے تمام منجمد اثاثے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے جب کہ بعض ذرائع کے مطابق امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ صرف 25 فیصد اثاثے واپس دینے پر غور کر سکتے ہیں۔
ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ مذاکرات میں لچک دکھا رہے ہیں۔ تاہم ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈ سینٹر نے حالیہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن نے ایک اور غلطی کی تو ایران پوری قوت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جواب دے گا۔






