
اسرائیلی فوج نے غزہ جانے کی کوشش کرنے والے ایک امدادی قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا کو یونان کے قریب بین الاقوامی سمندر میں روک کر 175 کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ اور فلوٹیلا کے منتظمین نے جمعرات کو اپنے بیانات میں امدادی قافلے کو روکے جانے اور اس کے اراکین کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'فلوٹیلا میں شامل 20 سے زائد کشتیوں میں سوار تقریباً 175 ایکٹیوسٹس کو حراست میں لیا گیا ہے جنہیں اب اسرائیل لایا جا رہا ہے۔'
گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین اس سے پہلے کی گئی کوششوں کی طرح اس بار بھی امدادی سامان لے کر اسرائیل کا محاصرہ توڑتے ہوئے غزہ پہنچنا چاہتے تھے۔ تاہم جمعرات کو منتظمین کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کو یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب اسرائیلی فوج کے جہازوں نے گھیر لیا ہے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا پہلے بھی غزہ پہنچنے کی متعدد کوششیں کر چکا ہے اور ہر بار اسرائیلی فوج نے امدادی قافلوں کو حراست میں لے کر ان کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ 2025 میں گلوبل صمود فلوٹیلا کی ابتدائی کوششوں نے عالمی توجہ حاصل کی تھی جب اسرائیل نے قافلے میں شامل بین الاقوامی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھونبرگ کو بھی گرفتار کیا تھا۔
حالیہ قافلے میں شامل کشتیاں فرانس، اسپین اور اٹلی سے روانہ ہوئی تھیں۔ تاہم بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات فلوٹیلا کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ان کی کشتیوں کو اسرائیلی فوجی جہازوں نے غیر قانونی طور پر گھیر لیا ہے۔

فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ امدادی قافلے میں شامل کئی دیگر کشتیاں اب بھی کریٹ کے قریب موجود ہیں۔
اسرائیل غزہ پہنچنے کے تمام راستوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں کا اسرائیل پر الزام ہے کہ وہ غزہ میں امدادی سامان کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے جس سے وہاں قلت اور بحران پیدا ہوتا ہے۔ اسرائیل ان کی تردید کرتا آیا ہے۔






