
امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے جہازوں کو بغیر کوئی ٹول دیے گزرنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی معاشی فائدے کے حصول سے قبل معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمے داریاں اور وعدے پورے کرنا ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ معاہدے کہ تحت ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 'ٹول' وصول نہیں کرے گا۔ البتہ بحری خدمات کے عوض فیس لینے کا اختیار برقرار رہے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز مفاہمتی یادداشت (جو کہ تقریباً ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے) پر الیکٹرونک دستخط کر دیے ہیں۔
ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر ٹرمپ خود اس معاہدے پر ذاتی طور پر دستخط کرنا چاہتے تھے کیوں کہ وہ اس عمل سے اپنی مکمل وابستگی اور سنجیدگی کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔
تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ ایک عمومی دستاویز ہے۔ جے ڈی وینس جمعے کو جینیوا میں دستخط کی باضابطہ تقریب میں شرکت کریں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ معاہدے میں جنگ سے متاثرہ ملک کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے ممکنہ فنڈ کا بھی ذکر ہے۔ لیکن ان کے بقول رقم کی فراہمی ایران کی کارکردگی اور معاہدے پر عمل درآمد سے مشروط ہوگی۔
اس معاہدے پر جمعے کو دستخط کے ساتھ ہی 60 روزہ مدت کا آغاز ہو جائے گا جس دوران ایران اور امریکہ ایک جامع اور مستقل امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تفصیلی مذاکرات کریں گے۔
ایک امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ 'ہم پہلے جوہری معاملات پر بات کرنا چاہیں گے۔'
تاہم آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ فوری توجہ کا مرکز ہے کیوں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اس کے عالمی معیشت پر براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے انتظام کی عملی تفصیلات دونوں ممالک کے درمیان جاری تیکنیکی مذاکرات میں طے کی جائیں گی۔
ایک امریکی عہدے دار کے مطابق بحری جہازوں کی آمدورفت آئندہ چند ہفتوں میں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائے گی جبکہ ٹریفک میں پہلے ہی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔






