
امریکہ اور ایران کی منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک بار پھر جھڑپیں ہوئی ہیں اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے اہداف پر حملے کیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر تباہ کرنے کا الزام ایران پر عائد کیا جس کے بعد امریکی فوج نے ایران میں کئی مقامات پر بمباری کی۔ جواب میں ایران نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں کئی امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ان حالیہ حملوں کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات پر بھی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے 'اے بی سی نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'میرا ماننا ہے کہ امریکہ کا ردعمل بہت سخت اور انتہائی طاقت ور ہونا چاہیے اور یہ ردعمل ایسا ہی تھا۔'
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں اس کے جزیرے قشم پر حملہ ہوا اور سرک شہر بھی نشانہ بنا۔ اس کے علاوہ بندرعباس اور آبنائے ہرمز پر واقع کئی اور علاقوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایک امریکی عہدے دار کے مطابق امریکہ نے ایران میں تقریباً 20 اہداف کو نشانہ بنایا اور ایران کے جوابی حملوں میں فائر کیے گئے لگ بھگ تمام ڈرونز اور میزائل بھی کامیابی سے روک لیے۔ عہدے دار کا کہنا تھا کہ امریکی تنصیبات پر فی الحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
حملوں کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے ایک بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ کسی خطرے اور حملے کا جواب دینے سے نہیں چوکیں گے۔
ایران نے جوابی حملوں میں بحرین، اردن اور کویت سمیت خطے میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں کے چار بڑے اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے بحرین میں واقع امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے پر ڈرونز سے حملے کیے۔ پاسداران انقلاب نے کارروائیاں جاری رہنے کی صورت میں مزید سخت ردعمل دینے کی بھی دھمکی دی۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق عوام کے تحفظ کے لیے سائرن بجائے گئے۔ بحرین کے حکام کے مطابق ملکی فضائی دفاعی نظام نے تمام حملوں کو روک لیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اردن میں امریکہ کی الارزق بیس پر بھی میزائل حملے کیے گئے۔ ان حملوں کا نشانہ ایف 35 طیاروں کے ہینگرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تھے۔ اس کے علاوہ کویت میں السالم فوجی اڈے کو بھی بنایا بنایا گیا۔
کویت اور اردن کا کہنا ہے کہ ان کا دفاعی نظام ان حملوں کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔






