
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے لیے 'وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔'
اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ 'ایران کو جلدی کرنا ہوگی ورنہ ان کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔'
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران دونوں کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک دوسرے کے سامنے پانچ، پانچ شرائط رکھی گئی ہیں۔ تاہم دونوں فریق ایک دوسرے کی شرائط قبول کرنے یا ان پر لچک دکھانے سے انکاری ہیں جس کے باعث مذاکرات التوا کا شکار ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر امریکہ نے اپنے جواب میں کوئی ٹھوس رعایت نہیں دی۔ واشنگٹن کی جانب سے لچک نہ دکھانے کی صورت میں مذاکرات ’تعطل‘ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ایران کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں: اسماعیل بقائی
دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات پاکستان کی ثالثی سے اب بھی جاری ہیں۔
ایران کی 'مہر نیوز ایجنسی' کو دیے گئے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے افزودگی اور یورینیم پر خدشات اٹھائے ہیں اور ہم کہہ چکے ہیں کہ ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے امریکی فریق نے ان کے 14 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا جس کے بعد ہمیں پاکستانی ثالث کے ذریعے ان کے نکات اور شرائط کا ایک مجموعہ موصول ہوا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا تہران کی جانب سے 14 نکاتی منصوبہ بھیجے جانے کے اگلے ہی دن انہیں امریکی شرائط موصول ہوئیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ان نکات کا جائزہ لیا گیا اور اس کے جواب میں ہماری طرف سے ردِعمل بھی فراہم کر دیا گیا ہے جب کہ پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
امریکہ و بحرین کی آبنائے ہرمز سے متعلق پیش کردہ قرارداد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کو خطے کی سلامتی خطرے میں ڈالنے کا ملزم نہیں ٹہرا سکتی۔ چائنہ اور روس جانتے ہیں کہ سمندروں میں عدم تحفظ اور آزادانہ تجارت کے خلاف امریکہ ہے۔
بقائی کا کہنا تھا کہ اگر بین الاقوامی برادری ذمے دارانہ اقدام کرنا چاہتی ہے تو اسے امریکہ کے اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے۔
ادھر پاکستان پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا قطر کے ریاستی وزیر محمد بن عبدالعزیز الخلیفی سے رابطہ ہوا ہے اور دونوں رہنماؤں نے ایران-امریکہ مذاکرات کی بحالی کی کوششوں پر گفتگو کی ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارتی عمل کی اہمیت کا اعادہ کیا اور علاقائی چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔






