
افغانستان کے کئی دور دراز علاقوں میں بسنے والوں نے دو ماہ بعد اب سکون کا سانس لیا ہے کیوں کہ پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اب کہیں جا کر ان تک کوئی امداد پہنچی ہے۔
افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پہاڑوں کے درمیان کئی دیہات کے مکین پاکستان کے ساتھ جھڑپوں سے بعد سے دنیا سے کٹے ہوئے تھے۔

صوبائی حکام نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ ایک بین الاقوامی امدادی کارواں کو رواں ہفتے اس علاقے میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان کے بقول پچھلے کئی ہفتوں سے اس گاؤں تک آنے والی سڑک ناقابلِ استعمال تھی۔
یہ امدادی قافلہ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس، افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے منظم کیا گیا ہے جو پینے کا پانی، کھانا اور میڈیکل آلات لے کر کام دیش کے درجنوں رہائشیوں تک پہنچا ہے جو ریلیف کے منتظر تھے۔

ان کے بقول 'ہم نے اپنے گھر چھوڑ دیے اور پہاڑوں میں چلے گئے۔ وہاں ہم نے کچھ وقت گزارا۔ ہمارے مویشی بیمار پڑ گئے اور ہم تک کوئی دوا نہیں پہنچ پا رہی تھی۔'
انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے مطابق اس تنازع کی وجہ سے اسامہ نورستانی کی طرح ایک لاکھ 36 ہزار افراد خوراک، صحت کی سہولتوں اور بنیادی گھریلو سامان کی سخت قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایک اور مقامی رہائشی محمد نعیم نے کہا کہ 'دوسرا روڈ برف کی وجہ سے بہت دشوار گزار راستہ ہے جو صرف سال میں دو ماہ کے لیے کھلتا ہے۔
رواں ہفتے اقوام متحدہ کے ایک امدادی ادارے نے کہا تھا کہ کام دیش کو ملانے والی اہم سڑک فائرنگ کے خطرے کی وجہ سے ناقابل استعمال ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان افغانستان پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام لگاتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ افغان میں برسر اقتدار طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔






