
ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات نے بھی خفیہ طور پر تہران پر کئی حملے کیے ہیں۔
امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' میں شائع رپورٹ میں معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امارات کا ایک ہدف ایران کے لوان جزیرے پر واقع آئل ریفائنری تھی جسے اپریل کے اوائل میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کرنے والے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ریفائنری پر ایک بڑی آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد تیل کی یہ تنصیب بند کر دی گئی۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ نے امارات کی جنگ میں شمولیت کا خاموشی سے خیر مقدم کیا۔ ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر متحدہ عرب امارات اور کویت پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کیے تھے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات کو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ نشانہ بنایا۔ حتیٰ کہ اسرائیل سے بھی زیادہ حملے امارات پر کیے گئے اور اس پر 2800 سے زیادہ میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
ان حملوں نے متحدہ عرب امارات کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کے باعث ملازمین کی برطرفیوں اور جبری رخصتوں میں اضافہ ہوا۔ خلیجی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی اخبار کو بتایا کہ ان حملوں نے ملک کی اسٹریٹجک سوچ میں 'بنیادی تبدیلی' پیدا کر دی ہے اور اب امارات ایران کو ایک 'بے قابو ریاست' کے طور پر دیکھتا ہے جو غیر ملکی ماہر افرادی قوت، سلامتی، اور استحکام پر مبنی اس کے معاشی و سماجی ماڈل کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے جب اس معاملے پر تبصرے کے لیے متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا گیا تو وزارت نے اس پر بیان دینے سے گریز کیا۔ تاہم اس نے پہلے جاری ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابوظہبی حملوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے امور پر گہری نظر رکھنے والی تجزیہ کار دینا اسفندری نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ایک اہم پیش رفت ہے کہ کسی خلیجی عرب ملک نے براہِ راست ایران پر حملہ کرتے ہوئے جنگ میں فریق کا کردار اختیار کیا ہے۔ اب تہران کوشش کرے گا کہ متحدہ عرب امارات اور اُن دیگر خلیجی عرب ممالک کے درمیان مزید فاصلے پیدا کرے جو جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔'






