دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کا شاہراہ قراقرم بند کر کے احتجاج، ڈیم سائٹ کی طرف لانگ مارچ کی بھی تنبیہ

09:506/04/2026, понедельник
جنرل6/04/2026, понедельник
ویب ڈیسک
مظاہرین نے شاہراہ قراقرم کئی مقامات پر بند کر دی۔
مظاہرین نے شاہراہ قراقرم کئی مقامات پر بند کر دی۔

گلگت بلتستان میں واقع دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کا پانچ روز سے جاری احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ مظاہرین نے اتوار کو شاہراہِ قراقرم پر احتجاج کرتے ہوئے اسے ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

مظاہرین نے دیامر ضلعے میں تھور اور چلاس کے مقامات پر دھرنا دیا اور شاہراہِ قراقرم کو بند کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا اور خبردار کیا کہ اگر ان کے دیرینہ مطالبات نہ مانے گئے تو وہ ڈیم کی سائٹ کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔

مظاہرین گزشتہ سال وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اتوار کو دیامر کی تھور ویلی میں منتظمین نے بڑے احتجاج کی کال دی تھی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں سے لوگ احتجاج کے لیے تھور ویلی میں جمع ہو رہے تھے تو پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے قراقرم ہائی وے بند کر کے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ تاہم بعد ازاں مظاہرین نے بھی کئی مقامات پر شاہراہ بند کر دی اور تھور میں ایک بڑے احتجاجی دھرنے کا بھی انعقاد کیا گیا۔

اہم شاہراہ بند ہونے سے مسافروں کو پریشانی اور انتظار کا سامنا کرنا پڑا اور سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔

احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟

مظاہرین وفاقی حکومت کے ساتھ 2025 میں طے پانے والے 31 نکاتی ایک معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے 31 نکاتی مطالبات میں دیامر بھاشا ڈیم کی 80 فیصد رائلٹی اور داسو ڈیم کی 30 فیصد رائلٹی گلگت بلتستان کو دینا شامل ہے۔

اس کے علاوہ ڈیم کے لیے حاصل کی گئی زمین کا معاوضہ، ڈیم سے متاثرہ مزید 3000 افراد کو مالی معاونت دینے، کمرشل اور رہائشی پلاٹ، تعلیم، صحت، سیوریج پروجیکٹس، ڈیم پروجیکٹ میں مقامی افراد کو لگانے اور غیر مستقل مقامی ملازمین کو مستقل کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔

فروری 2025 میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متاثرہ افراد کے احتجاج کے بعد ان کے مسائل حل کرنے کے لیے سات رکنی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ اس وقت طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ احتجاج اسی صورت میں ختم کیا جائے گا جب ان کے مطالبات پر مکمل عمل درآمد نہ ہو جائے۔ بصورت دیگر انہوں نے ڈیم سائٹ کی طرف لانگ مارچ کی بھی تنبیہ کی ہے۔

##دیامر بھاشا ڈیم
##گلگت بلتستان
##پاکستان