ہم جنگ ہار رہے ہیں، آپ کی غلطی کی وجہ سے اور کتنے امریکیوں کو مرنا پڑے گا؟; امریکی رکنِ کانگریس کے سینٹ کام کے کمانڈر سے سخت سوالات

11:1820/05/2026, بدھ
جنرل20/05/2026, بدھ
ویب ڈیسک
ایڈمرل بریڈ کوپر اور سیتھ مولٹن
ایڈمرل بریڈ کوپر اور سیتھ مولٹن

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو منگل کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا اور اراکینِ کانگریس نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔

منگل کو امریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروس کمیٹی کی سماعت ہوئی جس میں سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر سے ایران جنگ سے متعلق سخت سوالات کیے گئے۔ ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکنِ کانگریس سیتھ مولٹن کا بریڈ کوپر کے ساتھ سخت مکالمہ ہوا جس کے کلپس سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہیں۔

رکن کانگریس نے سینٹ کام کے سربراہ سے سوال کیا کہ آپ ایران کی جوہری صلاحیتوں کے لیے بار بار 'نمایاں تنزلی' کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں جب کہ پچھلے سال جب امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ ان کے نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

سیتھ مولٹن نے پوچھا کہ کیا آپ واضح کر سکتے ہیں کہ 'نمایاں تنزلی' اور 'ختم کرنے' میں کیا فرق ہے؟

جواب میں سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل کوپر نے ان الفاظ کے ساتھ گفتگو کا آغاز ہی کیا تھا کہ 'میرا خیال ہے کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق کوئی بھی بات کرنا۔۔۔' ابھی انہوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ رکنِ کانگریس نے ان کی بات کاٹتے ہوئے دوسرا سوال داغ دیا۔

سیتھ مولٹن نے کہا کہ میں ایران کے جوہری پروگرام کی بات ہی نہیں کر رہا۔ میں آپ سے انگریزی زبان کا پوچھ رہا ہوں کہ ختم کرنے اور نمایاں نقصان پہنچانے میں فرق کیا ہے؟ کیا یہ ایک ہی بات ہے؟

رکن کانگریس نے مزید کہا کہ آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام بھی نمایاں تنزلی کا شکار ہوا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

سینٹ کام کے کمانڈر نے جواب میں کہا کہ اس بارے میں جو اعداد و شمار آئے ہیں، وہ بہترین ہیں۔

ڈیموکریٹک رکن کانگریس نے ایک اور سخت سوال کیا کہ صدر ٹرمپ کی اپنی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی، جس پر انہوں نے پانچ ماہ قبل دسمبر میں دستخط کیے تھے، اس میں بھی ایران کے جوہری پروگرام کے لیے 'نمایاں تنزلی' کا فقرہ استعمال کیا گیا ہے۔ تو اگر پانچ ماہ پہلے بھی ایسا ہی تھا تو پھر ہم نے جنگ کیوں شروع کی؟ کیا صدر ہم سے اس وقت جھوٹ بول رہے تھے؟

ایڈمرل کوپر اس سوال کا بھی کوئی خاطر خواہ جواب نہ دے سکے اور رکنِ کانگریس نے ایک اور سخت سوال داغ دیا۔

انہوں نے کہا کہ آپ ہمیشہ یہاں آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب کچھ پلان کے مطابق چل رہا ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا پلان میں کہاں تھا؟ کیا آپ نے اس کا اندازہ لگایا تھا؟ کیا آپ کو لگا تھا کہ ایران یہ کر سکتا ہے؟ یا یہ پلان کا حصہ تھا؟

ڈیموکریٹ رکن نے مزید کہا کہ چلیں میں آپ کو رجیم چینج کا کریڈٹ دے دیتا ہوں۔ مجھے پتا ہے کہ وہ آپ کے پلان کا حصہ تھا۔ آپ نے ایک 86 سالہ شخص کو ہٹا دیا جو بیمار تھا اور جوہری ہتھیاروں کے بھی خلاف تھا۔ اور اس کی جگہ مزید سخت گیر شخص کو لے آئے جو 50 برس کا ہے۔ اور اگر وہ زیادہ سخت نہیں بھی تھا تو آپ نے اس کے پورے خاندان کو قتل کر دیا ہے۔ کیا یہ آپ کے پلان کا حصہ تھا؟ کیا آپ ایسا ہی رجیم چینج چاہتے تھے؟

ایڈمرل بریڈ کوپر نے جواب دیا کہ ہمیں بہت واضح فوجی اہداف دیے گئے تھے کہ ایران کی طاقت دکھانے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے اور یہی ہم نے کیا ہے۔

سیتھ مولٹن نے سوال کیا کہ اب آپ کا جنگ جیتنے کا کیا پلان ہے؟ کیوں کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم ہار رہے ہیں۔ ہم جوہری معاہدہ نہیں کر سکے۔ ہم آبنائے ہرمز نہیہں کھلوا سکے۔ صدر نے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیا یہ بھی پلان کا حصہ ہے؟

جواب میں سینٹ کام کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکے ہیں۔ ہم ابھی جنگ بندی میں ہیں، ایران کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر ہنگامی حالات کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس پر رکنِ کانگریس کا کہنا تھا کہ لگ نہیں رہا کہ کچھ اچھا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بھی پوچھنا چاہوں گا کہ آپ کی اس غلطی کی وجہ سے اور کتنے امریکیوں کو مرنا پڑے گا؟

اس بات پر سینٹ کام کے کمانڈر غصہ ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ 'میں سمجھتا ہوں کہ یہ آپ کا انتہائی غیر مناسب بیان ہے۔'

#سیتھ مولٹن
#ایڈمرل بریڈ کوپر
#امریکی سینٹ کام
#امریکی ایوان نمائندگان
#آبنائے ہرمز
#ایران جوہری پروگرام