
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں پیر کو دو مسلح لڑکوں نے ایک مسجد پر فائرنگ کر دی جس سے ایک سیکیورٹی گارڈ اور مسجد کے باہر موجود دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
حملہ سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد پر ہوا ہے جس میں مذہبی تعلیم کے لیے مدرسہ بھی موجود ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت مدرسے میں طلبہ بھی موجود تھے جو اس واقعے میں محفوظ رہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور بھی مردہ حالت میں پائے گئے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے خود کو گولی ماری۔ حملے کو امریکہ میں کسی خاص گروہ کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سان ڈیاگو پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے مقامی ادارے اور وفاقی تحقیقاتی بیورو (ایف بی آئی) حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم فی الحال حملے کے پیچھے کی کوئی وجہ یا مقصد سامنے نہیں آ سکا ہے۔
حملے سے قبل مشتبہ حملہ آور کی والدہ کا پولیس کو فون
پولیس سربراہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشتبہ حملہ آوروں میں سے ایک لڑکی کی والدہ نے حملے سے دو گھنٹے قبل پولیس کو کال کر کے اطلاع دی تھی کہ ان کا بیٹا گھر سے ان کی تین بندوقیں اور گاڑی لے کر بھاگا ہے۔ پولیس چیف کے مطابق لڑکے کی والدہ نے اپنے بیٹے کو خودکش کہہ کر پکارا تھا۔
سان ڈیاگو کے پولیس چیف اسکاٹ واہل نے مزید کہا کہ والدہ نے بتایا کہ ان کا بیٹا اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ ہے اور دونوں نے کیموفلاج لباس پہنا ہوا ہے۔

مسجد پر حملے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جہاں انہیں تین افراد کی لاشیں ملیں جو مسجد سے وابستہ تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے سیکیورٹی گارڈ نے ممکنہ طور پر بڑی خونریزی سے بچا لیا۔
کچھ ہی دیر بعد پولیس کو ایک گاڑی سے دو لڑکوں کی لاشیں بھی مل گئیں جن کی عمریں 17 اور 18 برس تھیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی ہی گولیوں سے ہلاک ہوئے۔ پولیس چیف کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے کوئی فائر نہیں کیا گیا۔






