
اسرائیل کے دو سابق وزرائے اعظموں نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال ہونے والے انتخابات میں بنیامین نیتن یاہو کے خلاف مل کر میدان میں اتریں گے اور انہیں وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے ہٹائیں گے۔
نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید دونوں اسرائیل کے وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں۔ ان کی اتحادی حکومت نے ہی پچھلی بار نیتن یاہو کے 12 سالہ دورِ اقتدار کا خاتمہ کیا تھا۔ اب ان دونوں رہنماؤں نے اپنی جماعتوں کو ایک اتحاد کی شکل میں انتخابات میں اتارنے کی تیاری کی ہے جس کی سربراہی بینیٹ کریں گے۔
بینیٹ کا کہنا ہے کہ اگر وہ منتخب ہوئی تو نئی حکومت اپنے قیام کے پہلے ہی دن حماس کے سات اکتوبر 2023 کے حملوں پر ایک تحقیقاتی کمیشن بنائے گی۔ واضح رہے کہ بنیامین نیتن یاہو کمیشن کے قیام سے کنی کتراتے رہے ہیں۔
اسرائیل میں سات اکتوبر کے حملوں کے پیچھے ناکامی کے ذمے داروں کے تعین کے مطالبات اٹھتے رہے ہیں۔ تاہم نیتن یاہو اس مسئلے سے کنی کتراتے نظر آئے ہیں۔
سابق وزیرِ اعظم یائر لاپید نے بھی بینیٹ کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے متحد رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
2021 میں نفتالی بینیٹ اپنے اتحاد کے پہلے وزیرِ اعظم بنے تھے۔ تاہم اتحاد ٹوٹنے کے بعد انہیں برخاست ہونا پڑا تھا اور ان کی جگہ یائر لاپید نے قائم مقام وزیرِ اعظم کے طور پر چھ ماہ اس منصب پر گزارا جس کے بعد انتخابات ہوئے اور نیتن یاہو دوبارہ اقتدار میں آ گئے تھے۔
یائر لاپید اس کے بعد سے اب تک قائدِ حزب اختلاف ہیں جب کہ نفتالی بینیٹ نے سیاست سے وقفہ لیا ہے۔
بینیٹ اور لاپید اگرچہ نیتن یاہو کے خلاف متحد ہیں لیکن دونوں کے درمیان واضح نظریاتی اختلافات بھی ہیں۔ بینیٹ قدامت پسند یہودی ہیں جو فلسطینیوں کے بارے میں سخت نظریات رکھتے ہیں جب کہ لاپید سیکولر اور زیادہ اعتدال پسند ہیں۔ تاہم دونوں ماضی میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر چکے ہیں۔
لاپید نے کہا ہے کہ 'ہم ایک ساتھ مل کر بہت اچھی طرح کام کرتے رہے ہیں۔ ہم نئے کئی مشکل فیصلے ساتھ لیے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے پر اعتماد کر سکتے ہیں۔'






