اسرائیل کا ایران میں دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ پر حملہ، تہران نے جواب میں خلیجی ملکوں کی گیس تنصیبات کو نشانے پر رکھ لیا

09:4019/03/2026, جمعرات
جنرل19/03/2026, جمعرات
ویب ڈیسک
ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کی ایک فائل فوٹو
ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کی ایک فائل فوٹو

اسرائیل کی جانب سے ایران کی ایک اہم گیس فیلڈ پر حملے کے بعد تہران نے جواب میں مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کے ڈھانچے پر بڑے حملے کیے ہیں جس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے بلکہ تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ایران نے جمعرات کو قطر اور متحدہ عرب امارات میں گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ دونوں ملکوں کے ساحلوں کے قریب دو جہازوں پر بھی آگ بھڑکتی دیکھی گئی۔

قطر کا کہنا ہے کہ اس کی ایک سب سے بڑی ایل این جی تنصیب ایرانی میزائل حملوں کا نشانہ بنی جس سے بڑی آگ بھڑک اٹھی اور نقصانات ہوئے۔ تاہم فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے۔

قطر دنیا میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا سب سے بڑا پیداواری ملک اور سپلائر ہے۔ تاہم ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس نے گیس کی پیداوار اور سپلائی روک رکھی ہے۔

حملے سے قطر کی گیس تنصیب کو اس قدر نقصان پہنچا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی یہاں سے سپلائی شروع ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں حکام نے کہا ہے کہ ابوظہبی میں حبشان گیس فیسیلٹی اور باب فیلڈ میں حملوں کے بعد آپریشنز بند کرنا پڑے۔ امارات نے گیس کی تنصیبات پر حملوں کو جنگ کا 'خطرناک پھیلاؤ' قرار دیا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سعودی حکام کے مطابق ریاض کی طرف بڑھنے والے چار بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا۔

توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور برینٹ کروڈ آئل 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔

خلیجی ملکوں کی جانب سے ایران کے حملوں کی مذمت

قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔ سعودی عرب کے سفارت کار نے کہا ہے کہ ان حملوں کا مطلب ہے کہ 'پہلے جو تھوڑا بہت اعتماد تھا، اب وہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔' سعودی حکام کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اسرائیل کا ایران کی اہم گیس فیلڈ پر حملہ

ایران نے یہ حملے اپنی ایک اہم گیس فیلڈ ساؤتھ پارس پر اسرائیلی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کے طور پر کیے ہیں۔ ساؤتھ پارس دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے جو خلیج فارس میں موجود ہے۔ ایران اور قطر مشترکہ طور پر اس کے مالک ہیں۔

ایران میں 80 فیصد بجلی کی پیداوار قدرتی گیس سے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی گیس گھروں میں بھی سپلائی کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے اس حملے سے ایران میں بجلی کے ترسیل اور گیس کی فراہمی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے ایسے نتائج ہوں گے جو کسی کے قابو میں نہیں ہوں گے اور پوری دنیا آگ کی لپیٹ میں آئے گی۔'

اسرائیل اب ایران کی گیس تنصیبات پر حملہ نہیں کرے گا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں گیس کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد کہا ہے کہ اسرائیل نے پرتشدد انداز میں اپنا غصہ نکالا اور ایران کی اہم گیس فیلڈ پر حملے کیے۔ تاہم اب وہ ایران کی گیس تنصیبات پر حملے نہیں کرے گا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اسرائیل کے اس حملے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ قطر اس میں شامل نہیں تھا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ایک امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے ایران کی گیس فیلڈ کو نشانہ بنانے کے اسرائیلی منصوبے کی منظوری دی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ اسرائیل نے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کر کے پرتشدد انداز میں اپنا غصہ نکالا۔ بدقسمتی سے ایران کو اس بات یا حملے سے متعلق کسی بھی اہم حقیقت کا علم نہیں تھا اور اس نے بلاجواز اور غیر منصفانہ طور پر قطر کی ایل این جی گیس تنصیب کے ایک حصے پر حملہ کر دیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اس نہایت اہم اور قیمتی ساؤتھ پارس فیلڈ پر مزید کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ایران نادانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے میں معصوم ملک قطر پر حملہ کرنے کا فیصلہ نہ کرے۔

انہوں نے دھمکی دی کہ اگر قطر میں گیس تنصیبات پر دوبارہ حملہ ہوا تو امریکہ اسرائیل کی مدد یا اس کی رضامندی کے ساتھ یا بغیر ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو ایسی زبردست طاقت اور شدت سے مکمل طور پر تباہ کر دے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔

##ایران
##گیس فیلڈ
##حملے