ایران کا آبنائے ہرمز کی عارضی بندش کا اعلان، تہران اور واشنگٹن مذاکرات سے کتنے پرامید؟

11:4718/02/2026, بدھ
جنرل18/02/2026, بدھ
ویب ڈیسک
آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی تجارت کے لیے بہت اہم سمندری راستہ ہے۔ اس راستے سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی تجارت کے لیے بہت اہم سمندری راستہ ہے۔ اس راستے سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔

ایران نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ فوجی مشقوں کے لیے آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر کچھ وقت کے لیے بند کرے گا۔ امریکہ کی دھمکیوں اور حالیہ کشیدگی کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے اس انتہائی اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کی جانب سے یہ اعلان اور فوجی مشقیں ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری بیڑا موجود ہے جو ایران پر ممکنہ حملے کی تیاریاں کر رہا ہے جب کہ دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری مذاکرات جاری ہیں۔

آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے۔ ایران اکثر آبنائے ہرمز میں مشقیں کرتا رہتا ہے لیکن ان حالات میں اس اہم راستے کو بند کرنا ایک غیر معمولی قدم ہے۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ ایران نے واقعی آبنائے ہرمز بند کی ہے یا نہیں لیکن ایسے غیر معمولی اقدام سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔

جنیوا میں منگل کو جب ایک طرف ایران اور امریکہ کے مذاکرات شروع ہوئے تو تہران کے سرکاری میڈیا کی جانب سے خبر دی گئی کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز کی سمت میں میزائل فائر کیے ہیں اور اس بحری راستے کو 'تحفظ اور خدشات' کے سبب کچھ گھنٹوں کے لیے بند کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ 'کبھی کبھی دنیا کی سب سے طاقت ور فوج کو بھی ایسا طمانچہ پڑ سکتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔'

'مذاکرات میں 'نیا راستہ' کھلا ہے'

ان سخت بیانات کے بعد ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کچھ نرم رویہ اپنایا اور مذاکرات کی کامیابی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے 'ایک نیا راستہ کھلا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامید ہیں کہ مذاکرات ہمیں ایک پائیدار اور متفقہ حل کی سمت میں لے جائیں گے جو دونوں متعلقہ فریقین اور خطے کے مفادات کا تحفظ بھی کرے گا۔

عراقچی نے مزید کہا کہ 'کسی خطرے یا جارحیت کی صورت میں ایران اپنے دفاع کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔ اور ایران پر حملے کے نتائج صرف اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔'

تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں آبنائے ہرمز کی بندش اور فوجی مشقوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

امریکہ مذاکرات کو کیسے دیکھ رہا ہے؟

جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکی صدر کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے ہیں۔

ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے 'اے پی' کو بتایا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی بہت سی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔ عہدے دار کا کہنا تھا کہ ایرانی وفد نے آئندہ دو ہفتوں میں مزید مفصل تجاویز پیش کرنے کا کہا ہے تاکہ اختلافات کم کیے جا سکیں۔

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق 'کچھ معاملات میں تو مذاکرات اچھے رہے۔' فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے نائب صدر کا کہنا تھا کہ لیکن کچھ معاملات میں صدر ٹرمپ نے واضح طور پر ریڈ لائنز طے کر دی ہیں جنہیں قبول کرنے پر ایرانی حکام فی الحال راضی نہیں ہیں۔

##ایران
##امریکہ
##مذاکرات