ایران کی خواتین فٹ بال ٹیم کی بیش تر کھلاڑی آسٹریلیا کی سیاسی پناہ کی پیش کش ٹھکرا کر وطن واپس روانہ

12:0511/03/2026, بدھ
جنرل11/03/2026, بدھ
ویب ڈیسک
ایران کی فٹ بال کھلاڑی
ایران کی فٹ بال کھلاڑی

ایران کی خواتین فٹ بال ٹیم کی بیش تر کھلاڑی آسٹریلیا کی سیاسی پناہ کی پیش کش ٹھکرا کر وطن واپسی کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔ آسٹریلوی حکام نے ان کھلاڑیوں کو روکنے کی آخری منٹ تک دیوانہ وار کوششیں کیں۔

آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایئرپورٹ کے ٹرمینل میں بھی فرداً فرداً کھلاڑیوں سے ملاقات کر کے انہیں سمجھانے اور قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ آسٹریلیا میں سیاسی پناہ کی پیش کش قبول کر لیں۔

آسٹریلیا کے وزیرِ داخلہ ٹونی برکے نے کہا کہ 'جذباتی' میٹنگز کے بعد بیش تر کھلاڑیوں نے وطن واپسی کو چنا اور صرف سات کھلاڑیوں نے سیاسی پناہ کی پیش کش قبول کی۔
سب سے پہلے ان پانچ ایرانی کھلاڑیوں نے سیاسی پناہ کی پیش کش قبول کی تھی۔

یہ سات ایرانی کھلاڑی پہلے ہی ہیومینیٹیرین ویزا قبول کر چکی تھیں جس کے تحت وہ آسٹریلیا میں مستقل رہائش اختیار کر سکتی ہیں۔ تاہم ان سات میں سے بھی ایک کھلاڑی نے آخری وقت میں اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا اور وطن واپسی کے لیے روانہ ہو گئیں۔

اس پر ٹونی برکے کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں لوگ اپنا ذہن تبدیل کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ٹونی برکے ان سات کھلاڑیوں کی تصاویر پہلے ہی پوسٹ کر چکے تھے جنہوں نے سیاسی پناہ کی پیش کش قبول کی تھی جس کی وجہ سے اب واپس جانے والی کھلاڑی کے لیے ایران میں مشکلات بھی ہو سکتی ہے کیوں کہ ایران میں سیاسی پناہ قبول کرنے والی کھلاڑیوں کو غدار قرار دیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں ان دو کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں رہنے کی پیش کش قبول کی تاہم ایک نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔

خواتین کھلاڑیوں کو سیاسی پناہ کی پیش کش کیوں کی گئی؟

ایران کی خواتین کی فٹ بال ٹیم گزشتہ ماہ ایشیا کپ میں شرکت کے لیے آسٹریلیا گئی تھی جب ایران جنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔ تاہم ایران کا پہلا میچ جنگ شروع ہونے کے بعد ہوا اور جب پہلے میچ میں ایران کا قومی ترانہ بجایا گیا تو کھلاڑیوں نے ترانہ نہیں پڑھا اور خاموش رہیں۔

کھلاڑیوں کی خاموشی کو کچھ لوگوں نے ایرانی حکومت کے خلاف بغاوت اور کچھ نے احتجاج سے تعبیر کیا۔ کچھ حلقوں نے اسے سوگ کا اظہار قرار دیا۔ ایران میں ان کھلاڑیوں کو سرکاری ٹی وی پر 'جنگ کے وقت میں غداری کرنے والی' قرار دیا گیا۔

اس واقعے کے بعد یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ ان کھلاڑیوں کو اس عمل پر ایران میں سخت کارروائی یا سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کا تحفظ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

تاہم جب کھلاڑیوں نے ایونٹ سے باہر ہونے سے قبل آسٹریلیا میں اپنا آخری میچ کھیلا تو اس میں قومی ترانہ بھی پڑھا اور سیلوٹ بھی کیا۔

آسٹریلیوی وزیرِ داخلہ کے مطابق 'آسٹریلیا میں اپنے پہلے میچ کے آغاز پر جب یہ کھلاڑی خاموش تھیں تو ان کی خاموشی دنیا بھر میں ایک دھاڑ کی طرح سنی گئی۔ ہم نے انہیں دعوت دی کہ آپ آسٹریلیا میں بحفاظت رہ سکتی ہیں۔'

گزشتہ ہفتے ایران کی ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی اور انہیں وطن واپس جانا تھا۔ تاہم کھلاڑیوں کے ترانہ نہ پڑھنے کا عمل نے بین الاقوامی توجہ ان کی طرف مبذول کرا دی تھی۔

آسٹریلیا میں مقیم ایرانی شہری ان خدشات کا اظہار کر رہے تھے کہ ایران کی سخت گیر حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگرچہ خود ایرانی کھلاڑیوں نے خود کبھی اس خدشے یا خوف کا اظہار نہیں کیا۔

تاہم پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس معاملے میں آ گئے اور انہوں نے آسٹریلوی حکومت پر تنقید کی کہ وہ خواتین کھلاڑیوں کو سیاسی پناہ نہیں دے رہی۔ اس کے اگلے دن یہ واضح ہوا کہ آسٹریلوی حکام اور خواتین کھلاڑیوں کے درمیان اس معاملے پر پہلے ہی بات ہو رہی تھی۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے ان خدشات کو رد کیا ہے کہ خواتین وطن واپسی پر محفوظ نہیں ہیں۔

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ 'ایران اپنے بچوں کا کھلی باہوں سے استقبال کرتا ہے اور حکومت ان کے تحفظ کی ضمانت دے گی۔ کسی کو ایرانی قوم کے گھریلو معاملات میں دخل اندازی کا حق نہیں ہے۔ کوئی بچوں کی وہ دایہ بننے کی کوشش نہ کرے جو ماں سے زیادہ رحم دل ہونے کا ڈھونگ کرتی ہے۔'

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی فٹ بال فیڈریشن نے بین الاقوامی باڈیز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹرمپ کی 'فٹ بال میں براہِ راست سیاسی مداخلت' کا جائزہ لے۔ ایرانی فٹ بال فیڈریشن کا کہنا تھا کہ یہ بیانات 2026 کے ورلڈ کپ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

بدھ کو آسٹریلوی میڈیا میں ایک تصویر شائع ہوئی ہے جس پر مزید شور مچ رہا ہے۔ اس تصویر میں ایک خاتون کھلاڑی کو اس کی ساتھی نے کھلائی سے پکڑا ہوا ہے جب کہ ایک اور رکن کا ہاتھ اس کے کاندھے پر ہے اور وہ ایئرپورٹ جانے والی بس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ لوگ اس سے یہ تاثر لے رہے ہیں کہ اسے زبردستی واپس لے جایا جا رہا ہے۔

تاہم آسٹریلوی حکام نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے آخری وقت تک کھلاڑیوں کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ہر کھلاڑی سے اکیلے میں ملاقات کی اور ان کی گھر والوں سے بات بھی کرائی تاکہ اگر ان پر واپسی کے لیے کوئی دباؤ ہو تو وہ زائل ہو جائے اور وہ سوچ سمجھ کر اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکیں۔ تاہم اس کے باوجود بیش تر کھلاڑی اپنی منشا سے واپس گئی ہیں۔

آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ جن کھلاڑیوں نے یہیں رہنے کا فیصلہ کیا ہے، انہیں مستقل رہائش کے لیے قانونی جنگ نہیں لڑنی پڑے گی اور صحت، رہائش اور دیگر سہولتیں بھی ملیں گی۔

ایرانی اسکواڈ میں شامل کچھ ارکان کو ویزا کی پیش کش نہیں کی گئی۔ آسٹریلوی حکام کا کہنا تھا کہ ان کے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے رابطے ہیں۔ آسٹریلوی وزیر داخلہ ٹونی برکے نے کہا کہ کچھ لوگ جو آسٹریلیا سے گئے ہیں میں ان کے بارے میں خوش ہوں کہ وہ مزید یہاں نہیں ہیں۔

یہ واضح نہیں کہ ایرانی ٹیم کے وفد میں کل کتنے افراد شامل تھے۔ تاہم آفیشل اسکواڈ کی لسٹ میں 26 کھلاڑیوں کا نام تھا جب کہ کوچنگ اور دیگر سپورٹ اسٹاف اس کے علاوہ تھا۔ ٹورنامنٹ کی منتظم ایشین فٹ بال کنفیڈریشن نے تصدیق کی ہے کہ اسکواڈ سڈنی سے ملائیشیا کے شہر کوالالمپور پہنچ گیا ہے اور وہاں ایک ہوٹل میں مقیم ہے۔

##ایران
##آسٹریلیا
##ایرانی فٹ بال کھلاڑی