ورک فرام ہوم اور اسمارٹ لاک ڈاؤن: کئی ایشیائی ملکوں میں کرونا دور کی طرح کے اقدامات، توانائی کی بچت کے لیے کون سا ملک کیا کر رہا ہے؟

14:0725/03/2026, Çarşamba
جنرل25/03/2026, Çarşamba
ویب ڈیسک
فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایران جنگ کی وجہ سے توانائی کے بحران کے باعث کئی ایشیائی ممالک کرونا وبا کے دور میں کیے گئے اقدامات اور پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ جیسے ورک فرام ہوم اور اسمارٹ لاک ڈاؤن وغیرہ۔

آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے ایشیائی ملک زیادہ متاثر ہیں جن کا انحصار اس خطے سے حاصل ہونے والے تیل پر ہے۔ ایشیائی ملکوں کا 80 فیصد تیل آبنائے ہرمز کے راستے سے آتا ہے۔

فی الحال کسی بھی ملک نے ورک فرام ہوم کو نافذ تو نہیں کیا ہے لیکن اس پر غور ضرور ہو رہا ہے۔ پاکستان سمیت بعض ملکوں نے توانائی کی بچت کے لیے کچھ دیگر اقدامات کیے ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی، جس نے اپنے اسٹرٹیجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل فراہم کیا ہے، نے اب تجویز دی ہے کہ تیل کی قیمتوں کے بحران سے بچنے کے لیے ورک فرام ہوم کی سہولت پر جانا چاہیے اور فضائی سفر سے اجتناب کرنا چاہیے۔

جنوبی کوریا کے وزیرِ توانائی نے اسے قابلِ عمل تجویز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'یہ ایک اچھا آئیڈیا ہے۔'

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے رواں ہفتے سڈنی میں ایک کانفرنس کے دوران توانائی میں بچت کے حوالے سے یہ تجاویز دیں۔ انہوں نے کہا کہ 'روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یورپی ملکوں نے بھی ایسے ہی اقدامات کو اپنایا۔ ان اقدامات نے روسی توانائی کے بغیر اس مشکل وقت سے نکلنے میں مدد دی۔'

ممالک توانائی بچانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

جنوبی کوریا نے منگل کو عوامی سطح پر توانائی کی بچت کے لیے ایک مہم شروع کی ہے جس میں لوگوں کو غسل کے وقت کا دورانیہ کم کرنے، دن کے وقت موبائل فون چارج کرنے اور ویکیوم کلینر صرف ہفتہ وار چھٹی کے روز چلانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

جنوبی کوریا کے وزیرِ توانائی نے کہا ہے کہ 'ہم متعلقہ وزارتوں سے مشاورت کریں گے اور ورک فرام ہوم کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کریں گے۔'

فلپائن جس کا زیادہ تر انحصار مشرق وسطیٰ سے آنے والے تیل پر ہے، نے کچھ سرکاری دفاتر میں ہفتے کے کام کے دن کم کر دیے ہیں۔ فلپائنی صدر نے نیشنل انرجی ایمرجنسی بھی نافذ کی ہے۔

پاکستان میں دو ہفتوں کے لیے اسکول بند کیے گئے اور دفاتر کے ملازمین کے گھروں سے کام کو ترجیح دینے کا کہا گیا ہے۔

سری لنکا میں فیول کی بچت کے لیے ہر بدھ کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

سنگاپور اپنے شہریوں اور کاروباروں پر توانائی کی بچت کرنے والی مشینوں، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال اور اے سی کا درجہ حرارت زیادہ رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

تھائی لینڈ کے وزیرِ اعظم نے سرکاری افسران کے بیرونِ ملک دورے معطل کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایئرکنڈیشنڈز کے درجہ حرارت کو 25 ڈگری سے اوپر رکھنے، سوٹ اور ٹائی پہننے سے گریز، ورک فرام ہوم اور لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کے استعمال جیسے اقدامات بھی کیے ہیں۔

جاپان کی حکومت نے منگل کو کہا ہے کہ وہ فیول پر سبسڈی دینے پر غور کر رہی ہے۔ پانچ ارب ڈالر کی یہ سبسڈی ریزرو فنڈ سے دی جائے گی تاکہ پیٹرول کی قیمتوں کو اوسطاً 170 ین فی لیٹر پر برقرار رکھا جا سکے۔

نیوزی لینڈ نے کم آمدنی والے طبقوں کے لیے ہفتہ وار مالی مدد کا اعلان کیا ہے۔ تقریباً 29 ڈالر کے قریب رقم ہر ہفتے غریب گھرانوں کو دی جائے گی۔

آسٹریلیا میں سینکڑوں پیٹرول اسٹیشنوں پر معمول سے زیادہ خریداری کی وجہ سے پیٹرول کی قلت ہو گئی ہے۔ اسی طرح انڈیا میں بھی پیٹرول پمپس پر لوگوں کا رش لگا ہوا ہے۔

بعض ایشیائی ملکوں میں پیٹرول اور ڈیزل کا معیار بھی گرایا گیا ہے تاکہ سپلائی زیادہ ہو سکے۔ یعنی ملاوٹ کے ذریعے مقدار بڑھائی جا رہی ہے۔ کچھ ملکوں نے اپنی مقامی ذخائر سے پیٹرول اور ڈیزل مارکیٹ میں پہنچایا ہے۔

##تیل کا بحران
##ایران جنگ
##پیٹرول قیمتیں