
امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کے بعد امریکہ کو اپنے خلیجی اتحادیوں کی طرف سے ناراضی کا سامنا ہے۔ خلیجی ملک شکوہ کر رہے ہیں کہ انہیں ایران کے جوابی حملوں سے بچاؤ کی تیاری کا وقت ہی نہیں ملا۔
'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق دو خلیجی ملکوں کے حکام نے کہا ہے کہ ان کی حکومتیں اس جنگ میں امریکہ کی طرف سے اپنائے گئے طریقے سے مایوس ہیں۔ بالخصوص ایران پر ہفتے کو کیے گئے ابتدائی حملوں پر ان کے زیادہ تحفظات ہیں۔
حکام کے مطابق ان کے ملکوں کو نہ کوئی ایڈوانس نوٹس دیا گیا اور امریکہ نے ان کی اس وارننگ کو بھی نظر انداز کیا کہ اس جنگ کے پورے خطے پر خطرناک اثرات ہو سکتے ہیں۔
اے پی کے مطابق ایک عہدے دار نے بتایا کہ خلیجی ملک اس پر بھی غم و غصے میں مبتلا ہیں کہ امریکی فوج نے ان کا صحیح دفاع نہیں کیا۔ عہدے دار کا کہنا تھا کہ خطے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد صرف اسرائیل اور امریکی فوجیوں کا تحفظ تھا جب کہ خلیجی ملکوں کو اپنی حفاظت آپ کرنے پر چھوڑ دیا گیا۔ اس عہدے دار نے بھی کہا کہ اب اس کے ملک کا دفاعی میزائلوں کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

سعودی عرب، کویت اور بحرین کی حکومتوں نے اس معاملے پر اے پی کی جانب سے رابطہ کرنے پر کوئی جواب نہیں دیا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی طرف سے بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ایران کے جوابی میزائل حملے اب 90 فیصد تک کم ہو چکے ہیں کیوں کہ امریکی آپریشن نے ان کی مزید ہتھیار بنانے اور لانچ کرنے کی صلاحیت تباہ کردی ہے۔

سرکاری سطح پر خاموشی مگر حکومت کے قریبی افراد کی کھل کر تنقید
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق خلیجی ممالک سرکاری سطح پر تو خاموش ہیں مگر حکومتوں کی قریبی اہم شخصیات امریکہ پر کھل کر تنقید کر رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس غیر ضروری جنگ میں گھسیٹا۔

خلیجی ملک ایران کے لیے تر نوالہ؟
پینٹاگون کے حکام نے امریکی قانون سازوں کے ساتھ رواں ہفتے ایک خفیہ بریفنگ میں تسلیم کیا کہ وہ ایران کی جانب سے لانچ کیے گئے ڈرونز کی لہروں کو روکنے میں مشکلات کا شکار ہیں جس کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں ان کے کچھ اہداف اور فوجی بھی غیر محفوظ ہیں۔
جب کہ خلیجی ممالک ایران کے لیے بہترین ہدف ثابت ہو رہے ہیں۔ وہ ایران کے کم فاصلے پر مار کرنے والے میزائلوں کی رینج میں ہیں اور امریکی افواج، بڑے کاروبار، سیاحتی مقامات اور توانائی کی سہولتوں کی شکل میں وہاں ایران کے پاس اہداف کی بھی کمی نہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے کم از کم 380 میزائل اور 1480 ڈرون پانچ عرب خلیجی ممالک پر داغے ہیں۔ اور اس کے ان حملوں میں وہاں 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

منگل کو امریکی کانگریس کے اراکین کو وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کینی کی جانب سے ایک بریفنگ دی گئی۔ اے پی کے مطابق معاملے سے آگاہ تین افراد نے اسے بتایا کہ ان حکام نے قانون سازوں کے سامنے تسلیم کیا کہ امریکہ کئی ایرانی ڈرونز کو تباہ نہیں کرسکے گا۔ بالخصوص شاہد ڈرونز کو۔
ایک امریکی عہدے دار کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہی بریفنگز میں سے ایک میں جنرل کینی اور وزیر دفاع سے جب قانون سازوں نے سوال کیا کہ ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ امریکہ خطے میں اہداف کو ایران کے ڈرونز سے نہیں بچا پا رہا؟ تو ان دونوں حکام کی جانب سے کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
'امریکہ کے پاس اتنی وسیع صلاحیت نہیں کہ ہر ایرانی ڈرون کو روک سکے'
خلیجی خطے میں امریکی سیکیورٹی نظام سے واقف اس عہدے دار کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس اتنی وسیع صلاحیت نہیں ہے کہ وہ پورے خطے میں ان یک طرفہ ڈرونز کا مقابلہ کر سکے جو غیر روایتی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اتحادیوں نے یوکرین سے مدد مانگی ہے جو ایرانی شاہد ڈرونز کو گرانے میں مہارت رکھتا ہے۔ جب ٹرمپ سے زیلنسکی کے اس بیان سے متعلق سوال کیا تھا تو ٹرمپ نے رائٹرز کو جواب دیا کہ 'میں کسی بھی ملک سے کوئی بھی مدد لے سکتا ہوں۔'
'امریکہ درست اندازہ نہیں لگا سکا'
کویت کے ایک تجزیہ کار بدر موسیٰ السیف کہتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اپنے خلیجی عرب اتحادیوں کو درپیش خطرے کا درست اندازہ نہیں لگا سکا، اسے یہ لگتا تھا ایران جوابی حملوں میں امریکی فوجیوں اور اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔

خلیجی ممالک میں پائی جانے والی مایوسی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسرائیل اپنے پڑوسی ملکوں کے مقابلے میں ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرانے میں نسبتاً زیادہ کامیاب رہا ہے۔ یہ بات ایک ایسے شخص نے بتائی ہے جو اس حساس سفارتی معاملے سے واقف ہے لیکن اسے عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہیں۔
ان ممالک کے فضائی دفاعی نظام اسرائیل جتنے مضبوط نہیں ہیں، مگر اس شخص کے مطابق امریکی حکام اس بات پر کسی حد تک حیران ہیں کہ خلیجی ممالک اب تک ایرانی اہداف پر میزائل داغ کر کسی جوابی کارروائی کا ارادہ ظاہر نہیں کر رہے۔
'خلیجی ممالک بھی ایران پر حملے شروع کر سکتے ہیں'
ایلیٹ ابرامز، جو ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے آخری حصے میں ایران اور وینزویلا کے لیے خصوصی نمائندے رہے، نے کہا کہ امریکی قومی سلامتی کے حکام اور ان کے خلیجی اتحادی اس بات سے آگاہ تھے کہ ایران بڑے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ابرامز کا کہنا تھا کہ 'پڑوسی ممالک کو اس کا علم تھا اور وہ اس سے خوفزدہ بھی تھے۔ لیکن یہ کبھی واضح نہیں تھا کہ ایران واقعی ایسا کرے گا۔ کیونکہ اس کے پاس کھونے کے لیے بھی بہت کچھ ہے۔'

سعودی عرب میں امریکہ کے سابق سفیر مائیکل ریٹنی نے کہا ہے کہ اگرچہ خلیجی ممالک ایران کو کمزور ہوتا دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن جاری جنگ کے بارے میں انہیں کئی اہم خدشات بھی ہیں۔ جن میں جنگ سے ہونے والا معاشی نقصان، عدم استحکام اور اس جنگ کا غیر یقینی اور طویل ہونا شامل ہے۔
ریٹنی کا کہنا تھا کہ 'اس کے بعد کیا ہوگا؟ خلیجی ممالک کو اس کے نتائج کا اصل بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔'






